طالبان کے حملے جاری لیکن امن مذاکرات دوبارہ شروع | حالات حاضرہ | DW | 04.01.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

طالبان کے حملے جاری لیکن امن مذاکرات دوبارہ شروع

افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کا نیا دور قطر میں پانچ جنوری سے دوبارہ شروع ہو رہا ہے۔ دوسری جانب افغانستان میں ٹارگٹ کلنگ اور پرتشدد واقعات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

افغان حکومت اور طالبان کے درمیان گزشتہ کئی ماہ سے بات چیت کا سلسلہ جاری ہے تاہم اب تک کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔ گزشتہ برس کے اواخر میں بڑی مشکلوں کے بعد فریقین مذاکرات کو آگے بڑھانے کے ایجنڈے پر رضامند ہوئے تھے۔

منگل کو شروع ہونے والی بات چیت میں افغان حکومت کے مذاکرات کار ملک میں مستقل جنگ بندی اور سن 2001 میں طالبان حکومت کی برطرفی کے بعد سے قائم موجودہ نظام حکومت کو برقرار رکھنے پر زور دیں گے۔ خیال رہے کہ نائن الیون کے واقعے کے بعد امریکا کی قیادت میں اتحادی فوج نے افغانستان کی طالبان حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔

افغان حکومت کے مذاکرات کار غلام فاروق مجروح نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا، ”یہ مذاکرات انتہائی پیچیدہ اور صبر آزما ہو سکتے ہیں تاہم ہمیں امید ہے کہ ہم جلد از جلد کسی نتیجے پر پہنچیں گے کیوں کہ لوگ اس خون خرابے سے تھک چکے ہیں۔"

دوسری جانب طالبان نے فی الحال اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

خیال رہے کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان کافی لیت و لعل کے بعد گزشتہ برس ستمبر میں براہ راست مذاکرات کا آغاز ہوا تھا لیکن بات چیت کے فریم ورک اور بعض امور میں مذہبی تشریحات پر تنازعہ ہو جانے کی وجہ سے یہ جلد ہی تعطل کا شکار ہو گئے تھے۔ بہرحال پاکستان اور امریکا کی طرف سے مربوط سفارتی اقدامات کے نتیجے میں فریقین کے مابین مذاکرات کے ایجنڈے پر اتفاق رائے ہو گیا۔

افغانستان میں باہم متحارب فریقین کے درمیان یہ بین الافغان مذاکرات گزشتہ برس فروری میں طالبان اور امریکا کے درمیان اس امن معاہدے کے بعد ممکن ہوسکے تھے، جس کے تحت امریکا نے مئی 2021 تک افغانستان سے اپنی تمام افواج کو نکال لینے کا وعدہ کیا ہے۔

’طالبان عوام میں مایوسی پھیلانا چاہتے ہیں‘

جب افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا تو اس کے بعد سے ہی افغانستان میں نہ صرف تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو گیا بلکہ اعلی حکومتی عہدیداروں، سماجی کارکنوں اور صحافیوں کی ٹارگٹ کلنگ کا ایک نیا رجحان بھی سامنے آیا۔

نومبر سے اب تک کابل صوبے کے ڈپٹی گورنر، پانچ صحافیوں اور ایک ممتاز سماجی کارکن کو کابل اور دیگر شہروں میں قتل کیا جا چکا ہے۔ سرکاری حکام قتل کے ان واقعات کے لیے طالبان کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں حالانکہ بعض حملوں کی ذمہ داری انتہاپسند گروپ داعش نے قبول کی ہے۔ قومی سلامتی کونسل کے مشیر جاوید فیصل نے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ”طالبان کا مقصد عوام میں پھوٹ ڈالنا ہے اور قتل کے ایسے واقعات انجام دے کر وہ حکومت کے سکیورٹی اداروں کے خلاف عوام میں غصہ اور مایوسی پھیلانا چاہتے ہیں۔" جاوید فیصل کا تاہم کہنا تھا، ”قتل کے یہ واقعات عوام کو مزید متحد کر رہے ہیں۔"

ویڈیو دیکھیے 01:57

طالبان اور امریکا کی ڈیل سب کی کامیابی ہے، شاہ محمود قریشی

اٹھارہ ہزار حملے

کابل سے کام کرنے والے تھنک ٹینک افغانستان ریسرچ اینڈ ایویلوایشن یونٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر نشنک موتوانی کا خیال ہے،”طالبان سیاسی ہلاکتوں کی باضابطہ ذمہ داری قبول نہیں کریں گے لیکن اس کے باوجود وہ اپنے کارکنوں کے سامنے یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ وہ اب بھی وہی طالبان ہیں اور ان میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔"

افغانستان کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ احمد ضیا سراج نے گزشتہ ہفتے افغان پارلیمان کو بتایا تھا کہ طالبان نے سال 2020 کے دوران ملک میں اٹھارہ ہزار سے زائد حملے کیے۔ افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن کے مطابق رواں سال کے ابتدائی نو مہینوں کے دوران حکومتی اور متحارب گروہوں کے حملوں میں 2177 شہری ہلاک اور 3822 زخمی ہوئے۔

عام افغان شہری ملک میں بہتر حالات کے خواہاں ہیں لیکن انہیں منگل کے روز شروع ہونے والے مذاکرات کے بعد بھی صورت حال میں کسی نمایاں تبدیلی کی امید بہت کم ہے۔ کابل کے ایک رہائشی جمشید محمد نے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ”کابل میں ہمارے لیے کوئی تحفظ نہیں ہے۔ آخر ہم اپنے عزیزوں کو اس طرح کب تک دفن کرتے رہیں گے؟‘‘

ج ا/ ا ا (اے ایف پی)

DW.COM