طالبان کی ’اسپیشل فورسز‘ کا کمانڈر ہلاک | حالات حاضرہ | DW | 03.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

طالبان کی ’اسپیشل فورسز‘ کا کمانڈر ہلاک

افغانستان کی مرکزی انٹیلیجنس ایجنسی نے کہا ہے کہ طالبان عسکریت پسندوں کے خصوصی یونٹ کے کمانڈر کو افغان فورسز کے ایک آپریشن میں ہلاک کر دیا گیا ہے۔ طالبان کی اسپیشل فورسز کو ’ریڈ یونٹ‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

افغان انٹیلیجنس ایجنسی ’’دی نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی‘‘ (NDS) کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ مُلا شاہ ولی کو جو مُلا ناصر کے نام سے بھی جانا جاتا تھا، گزشتہ ہفتے افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند میں ایک فضائی کارروائی کے دوران نشانہ بنایا گیا۔

صوبہ ہلمند افغان طالبان کا ایک مضبوط گڑھ ہے اور یہ منشیات کی تجارت کے حوالے سے بھی مشہور ہے۔ مُلا شاہ ولی تین برس قبل ’’ریڈ یونٹ‘‘ کا سربراہ بنایا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ افغان طالبان کی جانب سے صوبہ ہلمند کا گورنر بھی تعینات کیا گیا تھا۔ این ڈی ایس کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق شاہ ولی طالبان کی کاررائیوں میں براہ راست ملوث تھا۔

افغان فوج کے مطابق ’’ریڈ یونٹ‘‘ کے بارے میں خیال ہے کہ اس گروپ کے پاس انتہائی جدید ہتھیار موجود ہیں، جن میں رات میں دیکھنے والے آلات، 82 ملی میٹر کے راکٹ، بھاری مشین گنز اور امریکی ساختہ رائفلیں موجود ہیں۔

Afghanistan Kampf gegen Taliban Mohammad Nabi

’’ریڈ یونٹ‘‘ کے کے پاس انتہائی جدید ہتھیار موجود ہیں، جن میں امریکی ساختہ رائفلیں بھی شامل ہیں۔

این ڈی ایس کے مطابق مُلا شاہ ولی کے ساتھ ایک خودکش بمبار اور صوبہ ہلمند کے ضلع مُوسیٰ قلعہ کے دو دیگر طالبان کمانڈر بھی ہلاک ہوئے۔

 

خودکش بم دھماکے میں کم از کم چھ افراد ہلاک

آج اتوار کے روز مشرقی افغان شہر جلال آباد میں ایک موٹرسائیکل سوار خودکش بمبار نے ایک سیاسی مظاہرے کے لیے جمع افراد کے قریب اپنی موٹر سائیکل کو اڑا دیا۔ پولیس کے مطابق ننگر ہار صوبے کے رہائشی صدر اشرف غنی کی حمایت میں جمع ہوئے تھے، جنہیں اس خودکش حملے کا نشانہ بنایا گیا۔

ننگر ہار صوبے کی پولیس کے سربراہ حضرت حسین مشرقی وال کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایک خاتون اور ایک بچہ شامل ہے، جب کہ واقعے میں دیگر 13 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔