طالبان اور میانمار جنتا کو اقوام متحدہ میں فی الحال نمائندگی نہیں | حالات حاضرہ | DW | 02.12.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

طالبان اور میانمار جنتا کو اقوام متحدہ میں فی الحال نمائندگی نہیں

میانمار کی فوجی حکومت اور افغانستان کے حکمراں طالبان نے اقوام متحدہ میں اپنے اپنے نمائندے مقرر کرنے کے لیے درخواست کی تھی۔ تاہم عالمی ادارے نے فی الحال اس پر اپنا فیصلہ موخر کر دیا ہے۔

اقوام متحدہ کی ایک اہم کمیٹی نے میانمار کے فوجی جنتا اور افغانستان کے طالبان حکمرانوں کی جانب سے اقوام متحدہ میں اپنے ممالک کے لیے نشستیں حاصل کرنے کی درخواستوں پر اپنی کارروائی کو موخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی کریڈینشیئل کمیٹی کے اس اعلان کا مطلب یہ ہے کہ میانمار اور افغانستان کی سابقہ حکومتوں کے سفیر فی الحال اپنے عہدوں پر برقرار رہیں گے۔

میانمار نے نیا سفیر کسے مقرر کیا ہے؟

میانمار کی موجودہ فوجی حکومت نے اقوام متحدہ میں سابقہ حکومت کے مقرر کردہ سفیر کیاؤ مو تن کی جگہ ایک سابق فوجی آنگ تھرویئن کو مقرر کرنے کی درخواست دے رکھی ہے۔

میانمار کی جنتا نے فروری میں سویلین رہنما آنگ سان سوچی کی منتخبہ حکومت کا تختہ پلٹ کر اقتدار چھین لیا تھا۔ اس کے بعد سے معزول حکومتی اہلکاروں کو مختلف الزامات کے تحت جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے۔

سابقہ حکومت کے مقرر کردہ سفیر کیاؤ مو تن نے آنگ سان سوچی کی حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کی مخالفت کی تھی۔ جولائی میں ملک کے موجودہ وزیر خارجہ وؤنا ماؤنگ نے ان کی برطرفی کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان کے باوجود کیاؤ نے ادارے سے اپنی رکنیت کی تجدید کے لیے کہا تھا۔

طالبان نے اپنا نمائندہ کسے منتخب کیا ہے؟

طالبان نے صدر اشرف غنی کی سابقہ حکومت کے مقرر کردہ سفیر غلام اسحاق زئی کو ہٹا کر محمد سہیل شاہین کو اپنا نیا سفیر مقرر کرنے کی استدعا کی تھی۔ لیکن اسحاق زئی نے بھی ادارے سے اپنی سیٹ برقرار رکھنے کی اپیل کی تھی۔

 دوحہ مذاکرات کے دوران سہیل شاہین طالبان کے ترجمان کے طور پر کام کرنے کے ساتھ ہی طالبان حکومت کے ترجمان کے طور پر بھی کام کرتے رہے ہیں۔ طالبان نے اس برس اگست میں کابل پر قبضہ کر لیا تھا اور ستمبر میں اقوام متحدہ کے اجلاس کے دوران ہی اپنا سفیر متعین کرنے کی درخواست دی تھی۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش کا کہنا ہے کہ اگر دوسرے ممالک افغانستان میں انسانی حقوق کے احترام کے لیے دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں تو طالبان کو اپنے آپ کو تسلیم کرانے کی خواہش ہی ان کے پاس ایک موثر ہتھیار ہے۔

اقوام متحدہ میں سویڈن کی نمائندہ اینا کیرین اینسٹروم کا کہنا تھا کہ ''ایک بار جب جنرل اسمبلی میں اس معاملے پر غور و فکر ہونے کے بعد رپورٹ تیار ہو جائے گی'' تو کمیٹی کی رپورٹ جاری کر دی جائے گی۔

اس سے متعلق کمیٹی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان میں سے تین، امریکا، روس اور چین پر مشتمل ہے۔ باقی غیر مستقل ارکان میں سے سویڈن، بہاماس، بھوٹان، چلی، نامبیا اور سیرا لیون جیسے ممالک شامل ہیں۔

ص ز/ ج ا (روئٹرز، اے پی)  

ویڈیو دیکھیے 02:07

افغانستان ميں کھانے پينے کی اشياء کا بحران

DW.COM