’طالبان امریکا ڈیل کے باوجود طالبان القاعدہ رابطے برقرار‘ | حالات حاضرہ | DW | 02.06.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

’طالبان امریکا ڈیل کے باوجود طالبان القاعدہ رابطے برقرار‘

اقوام متحدہ کی عائد کردہ پابندیوں سے متعلق غیر جانبدار مبصرین کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق افغان طالبان کی امریکا کے ساتھ ڈیل کے باوجود طالبان اور دہشت گرد تنظیم القاعدہ بالخصوص حقانی نیٹ ورک کے مابین رابطے برقرار ہیں۔

نیو یارک میں عالمی ادارے کے صدر دفاتر سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق امریکا نے افغانستان میں طالبان عسکریت پسندوں کی قیادت کے ساتھ جو معاہدہ کیا تھا، اس کے بعد واشنگٹن کو توقع تھی کہ مستقبل میں طالبان عسکریت پسندوں اور دہشت گرد نیٹ ورک القاعدہ کے مابین رابطے ختم ہو جائیں گے۔

تاہم اقوام متحدہ کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں پر عمل درآمد پر نظر رکھنے والے غیر جانبدار مبصرین کی تیار کردہ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق، جو پیر یکم جون کو پیش کی گئی، افغان طالبان اور القاعدہ، خاص کر القاعدہ کے ذیلی دھڑے حقانی نیٹ ورک کے مابین رابطے اب بھی موجود ہیں۔

'امریکا سے مذاکرات میں القاعدہ سے مشورے‘

عالمی سلامتی کونسل کو پیش کی گئی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے، ''طالبان نے امریکا کے ساتھ اپنے مذاکرات کے دوران القاعدہ کے ساتھ باقاعدگی سے مشاورت کا سلسلہ جاری رکھا تھا۔ طالبان نے القاعدہ کو اس بارے میں ضمانتوں کی پیشکش بھی کی تھی کہ وہ القاعدہ کے ساتھ اپنے تاریخی روابط کو پیش نظر رکھیں گے۔‘‘

اس رپورٹ میں ان غیر جانبدار مبصرین نے کہا ہے کہ طالبان اور القاعدہ کے مابین ان رابطوں میں جن عوامل نے کلیدی کردار ادا کیا اور اب تک کر رہے ہیں، ان میں شخصی دوستیاں، شادیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے سماجی رشتے، مشترکہ جدوجہد اور ایک دوسرے سے نظریاتی ہمدردی اہم ترین ہیں۔

امریکا سے ڈیل میں القاعدہ سے متعلق وعدہ

امریکا نے اس سال 29 فروری کو افغان طالبان کے ساتھ جس معاہدے پر دستخط کیے تھے، اس کے تحت ہندوکش کی اس ریاست سے غیر ملکی فوجی دستوں کے مکمل انخلا کی راہ ہموار کی جانا ہے۔

اس ڈیل میں طالبان نے یہ وعدہ بھی کر رکھا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ القاعدہ اپنی سرگرمیوں کے لیے افغان سرزمین کو استعمال نہ کرے اور یوں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے سلامتی کے خطرات کا باعث نہ بنے۔

اسی ڈیل کے تحت یہ بھی طے پا چکا ہے کہ امریکا اگلے ماہ جولائی کے وسط تک افغانستان میں اپنی عسکری موجودگی مزید کم کر کے 8,600 فوجیوں تک لے آئے گا۔ اس بارے میں امریکی اور مغربی دفاعی تنظیم نیٹو کے حکام یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ واشنگٹن نے افغانستان میں اپنے فوجی دستوں میں کمی کا یہ ہدف گزشتہ ہفتے حاصل کر بھی لیا تھا۔

اس کے علاوہ اگر موجودہ حالات نے کسی نئی اور بڑی منفی تبدیلی کی وجہ سے کوئی نیا رخ اختیار نہ کیا، تو مئی 2021ء تک افغانستان میں کوئی بھی غیر ملکی فوجی موجود نہیں ہو گا۔

م م / ع س (روئٹرز، اے ایف پی)

DW.COM