طالبان اقتدار کے بعد دس لاکھ افراد ملازمت سے محروم ہوچکے ہیں، رپورٹ | حالات حاضرہ | DW | 10.05.2022

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

طالبان اقتدار کے بعد دس لاکھ افراد ملازمت سے محروم ہوچکے ہیں، رپورٹ

ایک امریکی ادارے کے مطابق افغانستان میں گزشتہ برس اگست میں طالبان کے اقتدار پر کنٹرول کرنے کے بعد سے تقریباً دس لاکھ افراد کی ملازمتیں ختم ہوچکی ہیں۔ سن 2021 کی تیسری سہ ماہی میں ہی پانچ لاکھ لوگوں کی ملازمتیں چلی گئیں۔

Bildergalerie Afghanistan

آئی ایل او کے مطابق 2021 کے تیسرے سہ ماہی میں پانچ لاکھ سے زائد افغان ورکرز اپنی ملازمتوں سے محروم ہوگئے

افغانستان تعمیر نو کے امریکی خصوصی انسپکٹر جنرل (ایس آئی جی اے آر)نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ گزشتہ برس اگست میں افغانستان پر طالبان کے کنٹرول حاصل کرلینے کے بعد سے اب تک 900000  سے زیادہ افراد اپنی ملازمتوں سے محروم ہوچکے ہیں۔

ایس آئی جی اے آر کے مطابق ملازمت سے محروم ہوجانے والی خواتین کا تناسب مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ اور سن 2022کے وسط تک خواتین کی ملازمتوں میں 21فیصد تک کی گراوٹ ہونے کا خدشہ ہے۔

طالبان کے اقتدار پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد سے افغانستان میں بے روزگاری کی شرح بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں بڑھتی ہوئی غربت نے بھی لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کے مطابق سن 2021 کے تیسرے سہ ماہی میں پانچ لاکھ سے زائد افغان ورکرز اپنی ملازمتوں سے محروم ہوگئے۔ یہ سلسلہ جاری ہے اور اس میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور سن 2022کے وسط تک سات لاکھ سے نو لاکھ کے درمیان افراد کی ملازمتیں ختم ہوجانے کا خدشہ ہے۔

چار عشرے تک چلنے والے خونریز تصادم نیز شدید خشک سالی اور وبا نے افغانستان کی معیشت کو تباہی کے دہانے تک پہنچا دیا۔ امریکی فورسز کے اچانک انخلاء اور طالبان کے اقتدار پر قابض ہونے کے بعد بین الاقوامی برادری نے افغانستان کے اثاثوں کو منجمد کردیا جس کی وجہ سے مالی حالت مزید ابتر ہوگئی۔

خواتین کی حالت سب سے زیادہ خراب

طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سب سے زیادہ پریشانی ان خواتین کو ہورہی ہے جو ملازمت پیشہ تھیں یا جن کے کاندھوں پر اپنے خاندان کے لیے روزی روٹی کا انتظام کرنے کی ذمہ داری تھی۔افغانستان کی خبر رساں ایجنسی خامہ پریس کے مطابق سرکاری دفاتر میں کام کرنے والی خواتین کی اکثریت اب اپنے اپنے گھروں تک محدود ہوکر رہ گئی ہیں۔

افغانستان میں بین الاقوامی موجودگی کے نتیجے میں خواتین کے حقوق میں تیزی سے بہتری آرہی تھی لیکن طالبان کی واپسی نے اس ترقی کے لیے خطرہ لاحق کردیا ہے۔ برقعہ کے حوالے سے طالبان کا نیا حکم نامہ اس کی ایک واضح مثال ہے۔

امریکہ کی طالبان کو وارننگ

امریکہ نے کہا ہے کہ اگر طالبان حکومت نے خواتین پر عائد کردہ حالیہ پابندیوں کو ختم نہیں کیا تو واشنگٹن اس پر دباو بڑھانے کے لیے اقدامات کرے گا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس سے جب خواتین کے لباس کے متعلق طالبان کے حالیہ حکم کے حوالے سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا،"ہم نے طالبان سے براہ راست اس پر بات کی ہے۔ اگرہمیں لگتا ہے کہ ان فیصلوں کو واپس نہیں کیا جائے گا یا ان کو ختم نہیں کیا جائے گا تو ہمارے پاس بہت سے ذرائع ہیں جو ہم آئندہ استعمال کرسکتے ہیں۔"

نیڈ پرائس نے تاہم یہ واضح نہیں کیا کہ وہ طالبان کو ان اقدامات کو واپس لینے کے لیے کس طرح مجبور کریں گے۔

خیال رہے کہ افغانستان کی وزارت امربالمعروف و نہی عن المنکر کے ترجمان نے ہفتے کے روز کابل میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران طالبان سربراہ ملا ہبت اللہ اخوندزادہ کا حکم نامہ پڑھ کر سنایا تھا کہ گھر سے باہر نکلتے ہوئے چہرہ نہ ڈھانپنے والی خواتین کو بالآخر ملازمت سے برطرف یا جیل میں ڈال دیا جائے گا۔

 ج ا/ ص ز (روئٹرز، ایجنسیاں)

DW.COM