صرف بہتر زندگی کے خواب دیکھنے والے یورپ نہ آئیں، ٹسک | مہاجرین کا بحران | DW | 03.03.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

صرف بہتر زندگی کے خواب دیکھنے والے یورپ نہ آئیں، ٹسک

یورپی کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹُسک نے کہا ہے کہ ایسے افراد جو صرف معاشی وجوہات کی بنا پر مہاجرت اختیار کر رہے ہیں، وہ یورپ نہ آئیں، انہوں نے یہ بات یونان اور ترکی کے ساتھ مہاجرین کے بحران کے تناظر میں بات چیت کے بعد کہی۔

جمعرات کے روز ڈونلڈ ٹُسک نے کہا کہ ایسے افراد جو صرف بہتر زندگی کے لیے یورپ آنا چاہتے ہیں، چاہے ان کا تعلق کسی بھی ملک سے کیوں نہ ہو، وہ اسمگلروں پر یقین نہ کریں۔

یہاں ٹُسک کا اشارہ واضح طور پر یہ تھا کہ ایسے افراد کو واپس ان کے آبائی ممالک بھیج دیا جائے گا۔

یونانی دارالحکومت ایتھنز میں وزیراعظم ایلکسس سپراس سے ملاقات کے بعد ایک پریس کانفرنس میں ڈونلڈ ٹُسک نے کہا، ’اپنی زندگی اور پیسے کو خطرے میں نہ ڈالیں کیوں کہ اس سے کچھ بھی حاصل نہیں ہو گا۔‘‘

ٹُسک مہاجرین کے بحران کے تناظر میں خطے کا دورہ کر رہے ہیں، جہاں وہ پیر کے روز یورپی یونین اور ترکی کی ایک سربراہی کانفرنس میں شرکت کریں گے۔ یہ بات اہم ہے کہ ترکی ہی سے لاکھوں افراد یونان کے راستے مغربی اور شمالی یورپی ممالک کا رخ کر رہے ہیں۔ اس راستے سے ایک طرف تو جنگ زدہ ممالک شام اور عراق سے بڑی تعداد میں مہاجرین یورپ آ رہے ہیں، مگر ساتھ ہی ساتھ بہت سے دیگر ممالک سے ایسے افراد بھی غیرقانونی طور پر یورپ پہنچ رہے ہیں، جن کا مقصد یورپ پہنچ کر صرف بہتر زندگی ہے۔

جمعرات کو یونان کے بعد ٹُسک ترکی پہنچ رہے ہیں، جہاں وہ وزیراعظم احمت داؤد آؤلو سے ملاقات میں انقرہ حکومت پر زور دیں گے کہ وہ ترکی سے یونان پہنچنے والے مہاجرین کے بہاؤ میں کمی لائے۔

یورپی کونسل کے صدر کی جانب سے یہ اعلان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے، جب برسلز نے یونان اور دیگر ممالک کو مہاجرین کے بحران سے نمٹنے کے لیے سات سو ملین یورو امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ اس 28 رکنی بلاک کی جانب سے اس بحران کے انسداد کے لیے ایک مشترکہ اقدام سامنے آیا ہے۔

دریں اثناء بلقان ریاستوں کی جانب سے سرحدیں بند کر دینے کی وجہ سے ہزاروں مہاجرین یونان میں پھنس کر رہ گئے ہیں، جب کہ اقوام متحدہ کی جانب سے خبردار کیا گیا ہے کہ یہ معاملہ ایک بڑے انسانی المیے میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ آسٹریا کی جانب سے مہاجرین کی ملک میں داخلے کی حد مقرر کرنے کے بعد بلقان ریاستوں خصوصاﹰ مقدونیہ نے اپنی سرحدوں پر عسکری موجودگی میں اضافہ کر دیا ہے اور یونان کے ساتھ لگنے والی اس کی سرحد اب تقریباﹰ بند ہے۔

یونانی پولیس کے مطابق مقدونیہ کی جانب سے منگل سے اب تک صرف پانچ سو شامی اور عراقی باشندوں کو سرحد عبور کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

پولیس کے مطابق یہ جاننا ناممکن ہے کہ اس وقت سرحد پر پھنسے ہوئے ان مہاجرین کی اصل تعداد کتنی ہے، تاہم یورپی یونین کے اندازوں کے مطابق تقریباﹰ بارہ ہزار افراد یونان اور مقدونیہ کی ایڈومینی نامی سرحدی کراسنگ پر پھنسے ہوئے ہیں۔