صدر شی شمالی کوریا میں: چین سے دوستی لازوال ہے، کم جونگ اُن | حالات حاضرہ | DW | 21.06.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

صدر شی شمالی کوریا میں: چین سے دوستی لازوال ہے، کم جونگ اُن

چینی صدر شی جن پنگ نے شمالی کوریا کا اپنا دو روزہ دورہ مکمل کر لیا ہے۔ گزشتہ چودہ برسوں میں چین کے کسی صدر نے پہلی مرتبہ شمالی کوریا کا سرکاری دورہ کیا ہے۔

چین کے صدر شی جن پنگ کے شمالی کوریا کے دورے کے موقع پر کمیونسٹ کوریا کے سپریم لیڈر چیئرمین کم جونگ اُن نے اپنے مہمان کے اعزاز میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چین کے ساتھ اپنے ملک کے دوستانہ تعلقات کو لازوال قرار دیا۔ شمالی کوریائی نیوز ایجنسی کے سی این اے کے مطابق چیئرمین اُن نے کہا کہ  بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر انتہائی پیچیدہ نوعیت کی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور ایسے میں شمالی کوریا اور چین ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں۔

چینی صدر شی جن پنگ شمالی کوریا کا دو روزہ دورہ مکمل کرنے کے بعد اب واپس اپنے ملک روانہ ہو گئے ہیں۔ پیونگ یانگ نے چینی صدر کے اس دورے کو تاریخی اور انتہائی اہم قرار دیا ہے۔ گزشتہ چودہ برسوں میں یہ کسی بھی چینی صدر کا پہلا دورہ تھا۔ ان چودہ برسوں میں شمالی کوریائی حکومت نے کم از کم پانچ جوہری تجربات کیے اور امریکا تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل تیار کرنے کا دعویٰ بھی کیا تھا۔

دونوں لیڈروں نے اپنی گفتگو میں اسٹریٹیجک رابطوں کے مزید بہتر بنائے جانے کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیا۔ چینی صدر نے واضح کیا کہ بیجنگ حکومت شمالی کوریا کی سفارتی حمایت کے ساتھ ساتھ تجارتی روابط بڑھانے کے علاوہ اسے ہر ممکن امداد بھی فراہم کرے گی۔ پیونگ یانگ حکومت نے چینی صدر کے استقبال کے لیے غیر معمولی انتظامات کیے تھے۔  ہزاروں افراد نے سڑک کے دونوں جانب کھڑے ہو کر مہمان صدر کا تالیاں بجا کر خیرمقدم کیا تھا۔

Xi Jinping in Nordkorea mit Kim Jong Un (Reuters/KCNA)

گزشتہ چودہ برسوں میں چین کے کسی صدر نے پہلی مرتبہ شمالی کوریا کا سرکاری دورہ کیا ہے

یہ امر اہم ہے کہ شمالی کوریائی لیڈر کم جونگ اُن تین مرتبہ چینی صدر کے ساتھ ملاقات کے لیے بیجنگ کا دورہ کر چکے ہیں۔ کم جونگ اُن نے اقتدار سنبھالنے کے بعد سب سے پہلے جس غیرملکی حکومتی سربراہ سے ملاقات کی تھی، وہ شی جن پنگ ہی تھے۔ کمیونسٹ کوریا کے رہنما کافی عرصے سے چینی صدر شی کے اس دورے کی امید لگائے ہوئے تھے، جو بالآخر پوری ہو گئی۔

چینی صدر نے شمالی کوریا کا اپنا یہ دورہ جاپانی شہر اوساکا میں منعقد ہونے والی ترقی یافتہ اور ترقی پذیر معیشتوں والے ممالک کے گروپ جی ٹوئنٹی کی ایک سمٹ سے قریب ایک ہفتہ قبل مکمل کیا ہے۔ اس تناظر میں تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ شی جن پنگ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ شمالی کوریا پر گہرا اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔

دوسری جانب امریکا اور شمالی کوریا کے درمیان مذاکرات تاحال تعطل کا شکار ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ اور شمالی کوریائی رہنما کم جونگ اُن کے درمیان رواں برس فروری میں ویتنام کے دارالحکومت ہنوئی میں ہونے والی سمٹ بغیر کسی پیش رفت کے ہی ختم ہو گئی تھی۔

DW.COM