’صحافت ہتھیار ڈالنے کا نہیں، سچ رپورٹ کرنے کا نام ہے‘ | حالات حاضرہ | DW | 22.11.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

’صحافت ہتھیار ڈالنے کا نہیں، سچ رپورٹ کرنے کا نام ہے‘

’کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس‘ نے اس سال کا پریس فریڈم ایوارڈ  پاکستان میں آزادی صحافت کے لیے مسلسل جدوجہد کے اعتراف میں ظفر عباس کے نام کر دیا۔

نیو یارک میں ایوارڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ظفر عباس نے کہا، ''میں نے سچ بتانے کی کوشش میں لگ بھگ چالیس سال لگا دیے۔ صحافت ہتھیار ڈالنے کا نہیں، سچ رپورٹ کرنے کا نام ہے۔‘‘

اس موقع پر انہوں نے پاکستان میں اپنے صحافتی سفر اور حالیہ برسوں میں ملک کے سکیورٹی اداروں کی طرف سے خود کو اور ڈان اخبار کو درپيش دباؤ کا ذکر کیا۔

 ظفر عباس کا صحافتی سفر

ظفر عباس نے رپوٹنگ کا آغاز سن انيس سو اکیاسی میں کراچی کے اخبار دی اسٹار سے کیا۔ وہ بعد میں کئی برسوں تک پاکستان میں بی بی سی کے نمائندے رہے اور 'ہیرالڈ‘ میگزین سے وابستہ رہے۔

چار دہائیوں پر مشتمل اس صحافتی کيريئر کے دوران ظفر عباس ایک سے زائد مرتبہ جسمانی تشدد کا شکار ہوئے۔ سن اکیانوے میں کراچی میں ایم کیو ایم پر رپوٹنگ کی وجہ سے مسلح افراد نے ان پر حملہ کیا۔ 

بعد میں وہ اسلام آباد منتقل ہوگئے، جہاں کچھ سال بعد ملک میں فرقہ وارانہ تشدد پر رپوٹنگ کی وجہ سے ایک مذہبی گروہ سے وابستہ افراد نے ان کے دفتر پر دھاوا بول ديا اور آگ لگا دی۔

سن دو ہزار چھ میں انہوں نے بی بی سی کو خیرباد کہا اور ڈان اخبار کے اسلام آباد ریزیڈنٹ ایڈیٹر کی ذمہ داری سنبھال لی۔ سن دو ہزار دس میں ایڈیٹر عباس ناصر کی سبکدوشی کے بعد وہ کراچی میں ڈان اخبار کے ایڈیٹر مقرر ہوئے۔

بظاہر یہ ان کے صحافتی کیریئر کا نقطہ عروج تھا۔ لیکن آنے والے برسوں میں پاکستان میں میڈیا کے لیے حالات بد سے بدتر ہوتے گئے، جس کا بڑا نشانہ ڈان اخبار بنا۔

'ڈان لیکس‘

سن دو ہزار سولہ میں نواز شریف کے دور میں پاکستان میں سول ملٹری تعلقات پر ڈان کے صحافی سرل المیڈا کی ایک رپورٹ پر پاکستانی فوج کے کچھ افسران سخت خفا ہوئے، جس کے بعد صحافی اور اخبار دونوں کو مسلسل عتاب کا نشانہ بنایا گیا۔

اخباری خبر کو 'ڈان لیکس‘ کا نام دے کر اسکینڈل کے طور پر پیش کیا گیا۔ عدالتی تفتیش، پوچھ گچھ اور سنگین نوعیت کے الزامات کا سلسلہ چلا۔ انٹیلیجنس اہلکاروں نے ظفر عباس اور سرل المیڈا سے گھنٹوں تفتیش کی لیکن انہوں نے خبر کے ذرائع بتانے سے انکار کیا۔

اس کے بعد ملک کے اکثر کينٹونمنٹ علاقوں میں ڈان اخبار کی سرکولیشن رکوا دی گئی۔ ڈان کے اشتہارات پر بار بار پابندی لگا کر ادارے کو مالی طور پر بھی نقصان پہنچایا گیا۔

ایسے میں بطور ایڈیٹر ظفر عباس اپنے صحافی کے ساتھ کھڑے رہے اور اپنے اصولی موقف پر بڑی حد تک ڈٹے رہے۔ انہوں نے تمام تر ریاستی ہتھکنڈوں کے باوجود صحافتی آزادیوں کا دفاع کیا۔

گوین ایفل پریس فریڈم  ایوارڈ

سی پی جے کے مطابق ظفر عباس ایک ایسے وقت میں صحافتی آزادیوں اور ان کے تحفظ کے علمبردار بن کر ابھرے جب پاکستان میں صحافیوں اور میڈیا کو غیرمعمولی دباؤ کا سامنا ہے۔

سی پی جے کی سربراہ کیتھلن کیرول نے کہا، ''ظفر عباس صحافتی حوصلے کی عملی تصویر ہیں، اسی لیے بورڈ انہیں گوین ایفل پریس فریڈم ایوارڈ سے نوازنے پر خوشی محسوس کرتا ہے۔‘‘

گوین ایفل پریس فریڈم ایوارڈ معروف صحافی اور سی پی جے بورڈ کے سابق رکن کے نام سے منسوب ہے۔

اس سے قبل یہ فریڈم ایوارڈ برطانوی اخبار دی گارڈین کے سابق ایڈیٹر ان چیف ایلن رسبرڈجر، امریکی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کی کیتھی گینن اور سی این این کی کرسٹیان امان پور کو دیا جا چکا ہے۔

DW.COM