شیر آیا، شیر آیا؟ | دستک | DW | 04.09.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

دستک

شیر آیا، شیر آیا؟

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف ایک مرتبہ پھر اپوزیشن کی بڑی جماعتوں نے صف آرا ہونے کا منصوبہ بنایا ہے۔ لیکن کیا اس مرتبہ نتیجہ پچھلی تین مرتبہ سے کچھ مختلف نکلے گا۔ ابصاء کومل کا بلاگ

Absa Komal

ابصاء کومل

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف ایک مرتبہ پھر اپوزیشن کی بڑی جماعتوں نے صف آرا ہونے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس ضمن میں جمعرات تین ستمبر کو اسلام آباد میں ہونے والے رہبر کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 20 ستمبر کو زرداری ہاؤس اسلام آباد میں آل پارٹیز کانفرنس منعقد کی جائے گی۔
رہبر کمیٹی اجلاس میں مسلم لیگ نون، پیپلز پارٹی اور جمعیت علماء اسلام (ف) کے رہنماؤں نے شرکت کی اور 'ایک نکاتی ایجنڈے‘ پر اتفاق کیا کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے اپنے دو سالہ دورِ اقتدار میں پاکستان کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے۔ اِس حوالے سے آل پارٹیز کانفرنس میں لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ جس کی صدارت چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کریں گے اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف کی قیادت میں مریم نواز و دیگر رہنما شرکت کریں گے جبکہ جمعیت علماء اسلام کی سربراہی مولانا فضل الرحمٰن کریں گے۔ جماعت اسلامی نے اے پی سی میں شرکت سے انکار کردیا ہے۔
دلچسپ بات یہی ہے کہ اِس مرتبہ مولانا فضل الرحمٰن کو سابق وزیراعظم نواز شریف نے ذاتی طور پر اعتماد میں لیا۔ لیکن اس مرتبہ آل پارٹیز کانفرنس کی سنسنی اِس لیے کم لگ رہی ہے کیونکہ ایسا پچھلے دو سال میں کم و بیش تین بار ہو چکا ہے۔ تین بار کی ناکام کوششوں کے بعد کیا اِس بار اپوزیشن، حکومت کو مشکل وقت دے پائے گی؟
ہم نے دیکھا کہ پہلے بھی اپوزیشن نے 2018ء کے عام انتخابات کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے نئے انتخابات کا مطالبہ کیا تھا اور اسمبلیوں میں نہ جانے کی بات کی تھی لیکن پی پی پی نے اسمبلیوں میں نشستیں سنبھالنے کو ترجیح دی، جس پر مولانا فضل الرحمٰن  کو مایوسی ہوئی۔
پھر 2019ء میں مشہور زمانہ آزادی مارچ کیا گیا جس کی قیادت مولانا نے خود کی اور اُس پر سب کی نظریں تھیں لیکن وہ کِن یقین دہانیوں پر شروع ہوا تھا اور کن پر ختم ہوا یہ بدستور ایک معمہ ہی ہے۔ مگر اُس وقت مولانا نون لیگ اور پیپلزپارٹی سے نالاں نظر آئے جب اُن کی توقع کے برعکس پی پی پی اور نون لیگ کی اعٰلی قیادت آزادی مارچ سے غیر حاضر رہی۔
متحدہ اپوزیشن کہلانے والی اپوزیشن نے متحد نہ ہوکر حکومتِ وقت کو  بہت سے معاملات پر جواب دہ کرنے کا موقع ضائع کیا ہے۔ لیکن اب حالات کے ساتھ ساتھ اپوزیشن اور حکومت کےامتحان بھی مختلف ہیں۔
دوسری جانب وزیراعظم عمران خان مسلسل یہ کہتے آئے ہیں کہ اُن کی حکومت اپوزیشن کی بلیک میلنگ میں نہیں آنے والی۔ عوام نے اُن کی حکومت کو پانچ سالوں کے لیے مینڈیڈیٹ دیا ہے لہٰذا اپوزیشن جتنا مرضی احتجاجی تحریکیں چلا لے اُس سے اُن کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ وزیر اعظم نے ایف اے ٹی ایف سے متعلق قانون سازی پر بھی اپوزیشن کو بھارتی طعنہ دیا اور کہا کہ اپوزیشن اپنی چوری بچانے کی خاطر ایف اے ٹی ایف سے متعلق قانون سازی نہیں چاہتی اور اگر اپوزیشن اس میں ساتھ نہیں دے گی تو عوام ان کا اصل چہرہ دیکھ لیں گے لیکن کسی صورت قومی مفاد پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ حال ہی میں وزیراعظم نے تحریک انصاف اور اُس کی اتحادی جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اِن خیالات کا اظہار کیا اور یہ بھی کہا کہ چور چور کو بچانے کے لیے آپس میں مل چکے ہیں لیکن اپوزیشن کی این آر او کی ڈیمانڈ پوری نہیں ہو گی۔
اِس مرتبہ نون لیگ اور پیپلز پارٹی کی جانب سے آل پارٹیز کانفرنس بلانے میں تاخیر کی وجہ ایک دوسرے پر عدم اعتماد تھا۔ شہباز شریف مولانا فضل الرحمٰن اور بلاول بھٹو جولائی میں'اے پی سی‘ بُلانے کے لیے ملے لیکن کوئی تاریخ دینے میں ناکام رہے۔ مولانا کو نواز شریف نے اعتماد میں لیا تو شہباز شریف نے وفد کے ہمراہ کراچی جا کر آصف زرداری اور بلاول سے ملاقات کی۔ ملاقات میں آصف زرداری اور بلاول کی جانب سے اِن ہاؤس تبدیلی کی تجویز پیش کی گئی جبکہ شہباز شریف کی جانب سے عبوری سیٹ اپ لانے اور نئے انتخابات کی تجویز پیش کی گئی۔ 
یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ پیپلز پارٹی نے اس سلسلے میں پارلیمانی نظام کی بالادستی اور جمہوری روایات کو فروغ دیا ہے جبکہ نون لیگ یہ کہتی آئی ہے کہ یہ حکومت اپنے بوجھ تلے دب جائے گی۔ نون لیگ کی اعلٰی قیادت اپنی مصلحتوں کے باعث خاموشی بھی اختیار کرلیتی ہے اور پھر ضرورت کے تحت حکومت گرانے کے لیے سرگرم بھی ہو جاتی ہے۔
لیکن اس بار نون لیگ کا امتحان سب سے بڑا ہے اور وہ یہ کہ شہباز شریف اپنی صحت کو وجہ بنا کر نیب میں تو پیش نہیں ہوئے مگر  پھر کراچی بھی پہنچے، اپنے حلقے کا دورہ کیا، عوام میں بھی گئے، پی پی پی سے ملاقاتیں بھی کی۔ دوسری جانب مریم نواز نے بھی خاموشی توڑی تو کیا نون لیگ صحیح فیصلے اور عوام کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی؟ کیا شہباز شریف اب بھی اپنے مخصوص انداز میں محتاط سیاست کریں گے؟ کیا مریم اب بھی خالی بیانات کی حد تک ہی اکتفا کریں گی؟ یا بقول بلاول ’ن لیگ اس وقت سِنگل لارجسٹ پارٹی ہے‘ تو کیا حقیقی معنوں میں نون لیگ سِنگل لارجسٹ پارٹی ہونے کا ثبوت بھی دے پائے گی؟
اِس مرتبہ حکومت کو درحقیقت مشکل وقت دینے کے لیے اپوزیشن خاص طور پر نون لیگ کو'شیر آیا شیر آیا ‘ والی کہانی کا پھر سے مطالعہ کر لینا چاہیے کیونکہ یہ نہ ہو کہ جب کھل کہ سیاست کرنے کا وقت آئے تو کوئی ساتھ دینے والا نہ ہو!

DW.COM