شنگھائی بندرگاہ کی بندش کے جرمن برآمدی صنعت پر سنگین نتائج | حالات حاضرہ | DW | 23.04.2022

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

شنگھائی بندرگاہ کی بندش کے جرمن برآمدی صنعت پر سنگین نتائج

شنگھائی میں کورونا وبا کی شدید لہر کے باعث سخت ترین لاک ڈاؤن نافذ ہے۔ شہر کی تجارتی بندرگاہ پر اس وقت کنٹینرز کی قطاریں لگ چکی ہیں۔ لاک ڈاؤن کے سبب تجارتی ماہرین سپلائی چین کی سنگین رکاوٹوں کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔

چین کے سب سے بڑے شہر شنگھائی کی تجارتی بندرگاہ پر اس وقت کنٹینرز کا رش لگا ہوا ہے۔ شنگھائی میں نافذ لاک ڈاؤن کے باعث جرمن تجارتی حلقہ سپلائی چین کی سنگین قسم کی رکاوٹوں کا خدشہ ظاہر کر رہا ہے۔ جرمنی کے بی ڈی آئی ایسوسی ایشن کے صدر زیگ فرائیڈ روسورم کا کہنا ہے کہ آنے والے ہفتوں میں جرمن صنعت  کے پیداواری عمل میں خلل پڑ جائے گا۔ انہوں نے کہا، ''اس لاک ڈاؤن کی وجہ سے خاص طور پر ایسی صنعتیں متاثر ہو رہی ہیں جو خام مال یا تعمیراتی اجزاء کی ترسیل پر انحصار کرتی ہیں، اس کے ساتھ ساتھ انہیں اپنی تیار شدہ مصنوعات سمندری راستوں کے ذریعے فراہم کی جاتی ہیں۔‘‘

چین کی 'زیرو کووڈ اسٹریٹجی‘

شنگھائی میں کورونا وبا کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کئی ہفتوں سے لاک ڈاؤن نافذ ہے۔ چین اپنی متنازعہ صفر کووڈ حکمت عملی پر عمل پیرا ہے، جس کا مقصد وائرس کی منتقلی کو مکمل طور پر روکنا ہے۔

China Shanghai Container-Hafen

چین کے سب سے بڑے شہر شنگھائی کی تجارتی بندرگاہ پر اس وقت کنٹینرز کا رش لگا ہوا ہے۔ شنگھائی میں نافذ لاک ڈاؤن کے باعث جرمن تجارتی حلقہ سپلائی چین کی سنگین قسم کی رکاوٹوں کا خدشہ ظاہر کر رہا ہے۔

اس حکمت عملی نے شہریوں پر بڑی مشکلات مسلط کر دی ہیں، ساتھ ہی چین کے کاروباری مرکز میں تجارتی سرگرمیوں کو درہم برہم کر دیا ہے اور بندرگاہ پر طویل ترین رکاوٹ کا باعث بنا ہے۔ روسورم کے مطابق ''کمپنیاں اور ان کے صارفین اشیا کی ترسیل میں خلل کے اثرات کو پہلے ہی محسوس کر رہے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں یوکرین میں جنگ اور کورونا وبا کے نتیجے میں ٹرانسپورٹ کی قیمتیں دگنی سے بھی زیادہ ہو گئی ہیں۔ چین میں جرمن کمپنیوں کی کئی شاخیں بحران کے نہج پر کھڑی ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ''چین میں کرفیو جتنے لمبے عرصے تک رہے گا، عالمی معیشت اور جرمن برآمدی صنعت کے لیے معاشی نتائج اتنے ہی سخت ہوں گے۔ سمندری راستوں کے ذریعے سپلائی چینز کے لیے کوئی قلیل مدتی متبادل بھی نظر نہیں آرہا۔‘‘

یوکرین کی جنگ کے نتائج اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے جرمن معیشت کے لیے ترقی کی توقعات پہلے ہی متاثر ہوئی ہیں۔ حکومت کی جانب سے اگلے ہفتے اس سال کے لیے طے شدہ  ترقی کے تخمینے میں بھی نمایاں کمی متوقع  ہے۔

ر ب / ع آ (ڈی پی اے)