شمالی کوریا میں رہنماؤں کی شخصیت پرستی | حالات حاضرہ | DW | 29.12.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شمالی کوریا میں رہنماؤں کی شخصیت پرستی

شمالی کوریا کے رہنما کِم جونگ اِل کے انتقال کے بعد ملک کے ذرائع ابلاغ میں ان کے جانشین کِم جونگ اُن کی شخصیت کے گرد ہالہ بناتے ہوئے انہیں ’کمیونسٹ پارٹی، ریاست اور فوج‘ کے اعلٰی ترین رہنما کے خطابات سے پکارا جا رہا ہے۔

ایک ایسے ملک میں جہاں رہنماؤں کی شخصیت پرستی عام چلن ہو، یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں لگتی۔ نئے رہنما کِم جونگ اُن ملک کی تریسٹھ سالہ تاریخ میں کِم خاندان کے تیسرے فرد ہیں جو ملک کا عنان اقتدار سنبھال رہے ہیں۔ ان سے قبل ان کے والد کِم جونگ اِل نے سترہ برس تک جبکہ دادا کِم اِل سُنگ نے اس ملک پر چھیالیس سال تک راج کیا تھا۔

ایک روز قبل یعنی 28 دسمبر کو کِم جونگ اِل کی آخری رسومات کی ادائیگی کے دوران شمالی کوریا کے سرکاری خبر رساں ادارے کورین سینٹرل نیوز ایجنسی نے نئے رہنما کے بارے میں کہا تھا: ’’عزت مآب کامریڈ کم جونگ اُن ہماری پارٹی اور فوج کے اعلٰی ترین رہنما ہیں جنہیں کِم جونگ اِل سے روح، قیادت، متاثر کن شخصیت، اخلاقی اقدار اور استقامت جیسی خوبیاں ورثے میں ملی ہیں۔‘‘

Kim Jong Un Nachfolger seines Vaters Nordkorea

شمالی کوریا کے نئے رہنما کم جونگ ان کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے پیشرو کی پالیسیوں کو ہی آگے بڑھائیں گے

آنجہانی رہنما کو توپوں اور رائفلوں سے فائرنگ کی گھن گرج اور ملک بھر میں سائرن اور ہارن بجا کر شاندار انداز میں خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ ان کی میت والی گاڑی کو دارالحکومت کی سڑکوں پر تین گھنٹے تک آہستہ آہستہ چلایا جاتا رہا جس دوران سڑکوں پر کھڑے لاکھوں افراد غم و اندوہ کی شدت سے زار و قطار روتے اور سسکیاں بھرتے رہے۔

ماتمی جلوس کے بعد کِم جونگ اِل کی میت کو کم سوسن میموریل پیلس میں رکھ دیا گیا جہاں شمالی کوریا کے بانی اور ان کے والد کی محفوظ شدہ لاش پہلے ہی پڑی ہے۔

جمعرات کو بھی شمالی کوریا کے منجمد کر دینے والے درجہ حرارت میں عوام کی بڑی تعداد کِم اِل سُنگ چوک میں خاموش کھڑی رہی۔ سرکاری ذرائع ابلاغ میں آنجہانی رہنما کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ ان کے دور میں ملک نے جوہری طاقت اور میزائلوں کی ٹیکنالوجی حاصل کی جس نے اسے مزید مضبوط بنا دیا۔

نئے رہنما کِم جونگ اُن کے بارے میں خیال ہے کہ ان کی عمر بیس کی دہائی میں ہے اور انہیں رہنما کے طور پر تیار کرنے کے لیے زیادہ وقت نہیں ملا۔ پہلی بار ذرائع ابلاغ میں ان کا ذکر اور تعارف گزشتہ برس کرایا گیا تھا جب ان کے آنجہانی والد نے انہیں فور اسٹار جنرل نامزد کیا اور انہیں حکمران جماعت کورین ورکرز پارٹی میں اعلٰی عہدے دیے گئے۔

تعزیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شمالی کوریا کی سپریم پیپلز اسمبلی کے چیئرمین آف دی پریزیڈیم کِم یونگ نام نے کہا تھا کہ شمالی کوریا ’’کامریڈ کِم جونگ اُن کی قیادت میں اس غم کو ہزار گنا طاقت اور ہمت میں تبدیل کرتے ہوئے عظیم رہنما کِم جونگ اِل کے اختیار کردہ سب سے پہلے فوج کے راستے پر مضبوطی سے گامزن رہے گا۔‘‘

یہ چیز اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ نئی قیادت کے باوجود شمالی کوریا کی پالیسیوں میں کسی بڑی تبدیلی کی توقع نہیں ہے۔

رپورٹ: حماد کیانی / خبر رساں ادارے

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

اشتہار