شمالی کوریا اب جنوبی کوریا کا ’دشمن‘ نہیں؟ | حالات حاضرہ | DW | 15.01.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

شمالی کوریا اب جنوبی کوریا کا ’دشمن‘ نہیں؟

جنوبی کوریا کی وزارت دفاع کی جانب سے منگل کے روز ایک دستاویز میں شمالی کوریا کو ’دشمن ملک‘ یا سلامتی کے لیے خطرہ قرار نہیں دیا گیا ہے۔

سن 2010 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ جنوبی کوریائی حکومت نے اپنی ایک دستاویز میں شمالی کوریا کو دشمن قرار نہیں دیا ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ سن 2010ء ہی میں جنوبی کوریا کے 50 افراد مارے گئے تھے، جس کا الزام سیول حکومت نے پیونگ یانگ پر عائد کیا تھا۔ اس واقعے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان بہتر ہوتے تعلقات ایک مرتبہ پھر کشیدگی کی جانب بڑھ گئے تھے۔

کِم جونگ اُن نے جنوبی کوریا کے دورے کی دعوت قبول کر لی

پینسٹھ برس کا طویل انتظار اور مختصر سی ملاقات

جنوبی کوریا کی وزارت دفاع کے وائٹ پیپر میں اس بار ماضی میں شمالی کوریا کے لیے استعمال کی جانے والی ’دشمن‘، ’موجودہ دشمن‘ یا ’مرکزی دشمن‘ جیسی اصطلاحات کا استعمال نہیں کیا گیا ہے، تاہم اس دستاویز میں شمالی کوریا کے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کو جزیرہ نما کوریا کی سلامتی کے لیے خطرہ ضرور قرار دیا گیا ہے۔ اس دستاویز میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے مراد شمالی کوریا کے میزائل اور جوہری ہتھیار ہیں۔

سیول حکومت کی جانب سے شمالی کوریا کو ’دشمن‘ قرار دینے کی اصطلاح، دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی ایک وجہ رہی ہی۔ شمالی کوریا سیول حکومت کی جانب سے اس اصطلاح کے استعمال کو ’اشتعال انگیز‘ قرار دیتا رہا ہے۔

جنوبی کوریا کے لبرل صدر مون جے ان نے گزشتہ برس تین بار شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان سے ملاقات کی اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں تیزی سے بہتری آتی چلی گئی۔ ان دونوں ممالک کے سیول اولمپکس میں ایک پرچم تلے اپنی ٹیمیں بھیجیں جب کہ کم جونگ ان کے گزشتہ برس جون میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی ملاقات کی۔

سیول حکومت کی جانب سے شمالی کوریا کے لیے ’دشمن‘ کی اصطلاح پہلی مرتبہ سن 1995 میں استعمال کی گئی تھی، جب کہ اس کے جواب میں شمالی کوریا نے دھمکی دی تھی کہ وہ جنوبی کوریا کو ’آگ کا سمندر‘ بنا دے گا۔ اس کے بعد سے دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف انہی اصطلاحات کو تواتر کے ساتھ استعمال کرتے آئے ہیں۔ سن دو ہزار سے دوہزار دس تک جنوبی کوریا کی جانب سے اس اصطلاح کا استعمال کرنے سے اجتناب برتا گیا، مگر 2010ء میں سمندر میں شمالی کوریا کے ایک مبینہ حملے میں جنوبی کوریا کے متعدد افراد کی ہلاکت کے بعد سیول حکومت نے ایک مرتبہ پھر اس اصطلاح کا استعمال شروع کر دیا۔

اس تازہ دستاویز میں شمالی کوریا کا نام استعمال کرنے کی بجائے لکھا گیا ہے، ’’وہ قوتیں جو جنوبی کوریا کی سلامتی، خودمختاری، شہریوں اور املاک کے لیے خطرہ ہیں، ہماری دشمن ہیں۔‘‘

ع ت، الف ب الف (اے پی، اے ایف پی)

DW.COM