شرط لگانے کا رویہ جینز میں پوشیدہ | سائنس اور ماحول | DW | 19.06.2014
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

شرط لگانے کا رویہ جینز میں پوشیدہ

کیا آپ شرط لگائیں گے؟ شاید اس کے جواب کا تعلق آپ کے جینز میں چھپا ہوا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موروثیت دراصل کسی بھی فرد میں شرط لگانے یا سرمایہ کاری کرنے سے متعلق رویے پر بہت حد تک اثر انداز ہوتی ہے۔

جس جینز کے بارے میں یہ تحقیق کی گئی وہ ڈوپامین کو متاثر کرتا ہے۔ ڈوپامین دماغ میں خارج ہونے ولا ایک ایسا کیمیائی مرکب ہے جو خوشی اور انعام حاصل کرنے کی خواہش پیدا کرتا ہے۔ اس تحقیق کے نتائج تحقیقی جریدے ’پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز‘ میں شائع ہوئے ہیں۔

ڈوپامین کے بارے میں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ یہ سماجی تعلقات کے حوالے سے بھی کردار ادا کرتا ہے، تاہم امریکی ریاست کیلیفورنیا کی برکلے یونیورسٹی کے محققین کے مطابق ان کی تحقیق اس بارے میں اولین ہے جس نے بتایا ہے کہ جینز کس طرح ڈوپامین کو کنٹرول کرتے ہیں کہ وہ دماغ پر اثر انداز ہو۔

برکلے یونیورسٹی کے ہاس اسکول آف بزنس کے شعبہ مارکیٹنگ کے اسسٹنٹ پروفیسر اور اس تحقیق کے سربراہ مِنگ ہسو کے مطابق، ’’یہ اسٹڈی ظاہر کرتی ہے کہ جینز ہمارے پیچیدہ سماجی رویوں کو کنٹرول کرتے ہیں اور اس معاملے میں اسٹریٹیجک رویوں کو۔‘‘

ایسے طلبہ جو اپنے مخالف کی سوچ کو سمجھنے میں بہتر تھے ان کے جینز میں تین ایسے تغیرات موجود تھے جو دماغ کے ایک مخصوص حصے میں ڈوپامین کے کام کرنے کے عمل کو متاثر کرتے ہیں

ایسے طلبہ جو اپنے مخالف کی سوچ کو سمجھنے میں بہتر تھے ان کے جینز میں تین ایسے تغیرات موجود تھے جو دماغ کے ایک مخصوص حصے میں ڈوپامین کے کام کرنے کے عمل کو متاثر کرتے ہیں

اس تحقیق میں سنگاپور کی نیشنل یونیورسٹی میں گریجوایشن کے 217 طلبہ کو شامل کیا گیا۔ ان کے جینیاتی بناوٹ یا جینوم کو 70 ہزار جینیاتی تبدیلیوں یا تغیرات کے حوالے سے اسکین کیا گیا۔ جس کے بعد محققین نے جینیاتی طور پر مختلف 12 ایسے جینز پر اپنی توجہ مرکوز کر دی جو ڈوپامین کو ریگولیٹ کرتے ہیں۔

انہوں نے MRI امیجنگ کے ذریعے اس وقت ان طلبہ کے دماغوں کا جائزہ لیا جب وہ مسابقتی یا مقابلے پر مبنی کھیل میں مصروف تھے۔ اس کھیل میں ایک شخص اپنے کمپیوٹر کے ذریعے کسی نامعلوم مخالف کے ساتھ شرط لگا سکتا تھا۔

اس تحقیق کے مطابق تجربے میں شریک ایسے طلبہ جو اپنے مخالف کی سوچ کو سمجھنے میں بہتر تھے اور مخالف کے ردعمل کا بہتر اندازہ لگاتے ہوئے اس کا جواب دینے میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا، ان کے جینز میں تین ایسے تغیرات موجود تھے جو دماغ کے ایک مخصوص حصے میں ڈوپامین کے کام کرنے کے عمل کو متاثر کرتے ہیں۔ طبی اصطلاح میں دماغ کے اس خاص حصے کو ’پری فرنٹل کارٹیکس‘ (prefrontal cortex) کا نام دیا جاتا ہے۔

ایسے طلبہ جنہوں نے ’ٹرائل اینڈ ایرر‘ یا غلطیاں کر کے سیکھنے میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا، ان میں دو مختلف جینز نے دماغ کے ایک اور حصے ’اسٹریاٹل ریجن‘ (striatal region) میں ڈوپامین کے کام کرنے کے عمل کو متاثر کیا۔

محققین کے مطابق ان طلبہ میں جو اس تحقیق میں شامل تھے، فیصلے سازی میں جینیاتی کردار ’حیران کُن حد تک توافق‘ کے ساتھ نوٹ کیا گیا۔ اس تحقیق کے مطابق، ’’ہمارے نتائج نے ان شواہد کو تقویت دی ہے کہ ڈوپامین فیصلہ سازی کے حوالے سے انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے بھلے وہ سماجی حوالے سے ہوں یا اس سے ہٹ کر۔‘‘

اشتہار