’شاہین باغ تحریک‘ ختم کرنے کا نیا حکومتی حربہ | حالات حاضرہ | DW | 22.01.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

’شاہین باغ تحریک‘ ختم کرنے کا نیا حکومتی حربہ

متنازع شہریت ترمیمی قانون کے خلاف دہلی کے شاہین باغ میں گذشتہ تقریباً 40 ایام سے خواتین کی منفرد تحریک جاری ہے۔ اسے ختم کرنے کے لیے مختلف طریقوں کی ناکامی کے بعد مودی حکومت نے اب بچوں کا حربہ آزمانے کا فیصلہ کیا ہے۔

بھارتی ادارے قومی کمیشن برائے تحفظ اطفال نے جنوب مشرقی دہلی، جہاں شاہین باغ واقع ہے، کے انتظامی مجسٹریٹ سے کہا ہے کہ مظاہرے میں شامل بچوں کی نشاندہی کرکے ان کی کونسلنگ کریں اور ضروری ہوتو چائلڈ ویلفیئر کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو دس دنوں کے اندر جواب دینے کے لیے کہا گیا ہے۔

دریائے جمنا کے کنارے واقع شاہین باغ میں خواتین پچھلے تقریباً چالیس دنوں سے مسلسل دھرنا دیے ہوئے ہیں۔ دہلی کی شدید سردی اوربارش بھی ان کا حوصلہ پست نہیں کرسکی ہے۔ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کرنے والوں میں جہاں بزرگ خواتین ہیں وہیں ایسی مائیں بھی ہیں جواپنے بچوں کو بھی دھرنے میں ساتھ لے کر آتی ہیں۔ بعض بچے تو ایک ماہ سے بھی کم عمر کے ہیں۔

Indien Shaheen Bagh aus Kolkata (DW/S. Bandopadhyay)

شاہین باغ میں خواتین پچھلے تقریباً چالیس دنوں سے مسلسل دھرنا دیے ہوئے ہیں

قومی کمیشن برائے تحفظ اطفال نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ہرلین کور کو ہدایت کے ساتھ ایک ویڈیو بھی بھیجا ہے جس میں بچے وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔

ویڈیو میں بچے یہ کہتے ہوئے سنائی دے رہے ہیں ”ان کے والدین نے بتایا ہے کہ وزیر اعظم اور وزیر داخلہ ان سے شہریت کے دستاویزات دکھانے کو کہیں گے اور اگر وہ دکھا نہیں پائے تو انہیں حراستی مراکز میں بھیج دیا جائے گا، جہاں انہیں نہ تو کھانے کو ملے گا اور نہ پہننے کے لیے کپڑے۔"

کمیشن کی چیئرپرسن نے حکم نامہ بھیجے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ویڈیو دیکھنے کے بعد ہم نے یہ حکم جاری کیا ہے کیوں کہ لگتا ہے کہ بچے افواہوں اور غلط فہمیوں کی وجہ سے ذہنی تناو کا شکار ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ضروری ہوا تو ان بچوں کے والدین کی بھی کونسلنگ کی جا سکتی ہے۔

Indien Shaheen Bagh aus Kolkata (DW/S. Bandopadhyay)

دہلی کی شدید سردی اوربارش بھی ان کا حوصلہ پست نہیں کرسکی ہے

خیال رہے کہ چائلڈ ویلفیئر کمیٹیاں ہر ضلع میں قائم ہیں اور وہ جووینائیل جسٹس قانون سن 2015 کے تحت بچوں کی دیکھ بھال جیسے امور کے لیے کام کرتی ہیں۔ شاہین باغ دھرنے کے منتظمین میں سے ایک شاہین کوثر نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ”جب یہاں مائیں ہیں تو بچے بھی ہوں گے، اسٹیج سے بار بار کی ہدایت کے باوجود وہ ایسا کرتے ہیں لیکن بچوں کو بھی حالات کا علم ہونا چاہئے، انہیں بھی معلوم ہونا چاہئے کہ کیا اچھا ہے اور کیا برا۔"

خیال رہے کہ مودی حکومت اور حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی شاہین باغ میں خواتین کے دھرنے کو ختم کرنے کے لیے متعدد حربے آزما چکی ہے۔ پہلے اسے صرف مسلمانوں کا احتجاجی مظاہرہ کہا گیا لیکن جب وہاں قرآن، بائیبل، ہون اور شبد کیرتن کے پروگرام ہوئے اور بڑی تعداد میں غیرمسلم شریک ہونے لگے تویہ حربہ ناکام ہوگیا۔ اس کے بعد کشمیری پنڈتوں کی مہاجرت کا معاملہ اٹھادیا گیا لیکن مخالفین کو اس وقت منہ کی کھانی پڑگئی جب کشمیری پنڈتوں کے کئی رہنما اظہار یک جہتی کے لیے شاہین با غ پہنچ گئے۔

دہلی کے لفٹننٹ گورنر انل بیجل نے کل اپنے دفتر میں شاہین باغ کی نمائندہ خواتین سے ملاقات کی اور ان سے احتجاج ختم کرنے کی اپیل کی لیکن ان خواتین کا کہنا ہے کہ وہ متنازع شہریت قانون واپس لیے جانے تک یہاں سے اٹھنے والی نہیں ہیں۔ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف شاہین باغ کی خواتین کا مظاہرہ ہر گذرتے دن کے ساتھ مضبوط ہوتاجارہا ہے۔

ویڈیو دیکھیے 03:46

شہریت ترمیمی قانون اور نیشنل رجسٹریشن بل کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسہ جاری

DW.COM