شام کے حالات انتہائی سنگین صورت اختیار کرتے ہوئے | حالات حاضرہ | DW | 28.04.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام کے حالات انتہائی سنگین صورت اختیار کرتے ہوئے

تقریباً دو ماہ سے جاری کمزور فائربندی کو شام کے متحارب فریقین ٹوٹنے کے قریب لے آئے ہیں۔ گزشتہ رات حلب کے نواحی علاقے کے ایک ہسپتال پر کیے گئے فضائی حملے میں تین بچوں سمیت بیس انسانی جانیں ضائع ہوئی ہیں۔

سیرین آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے بتایا ہے کہ حلب کے علاقے میں واقع ایک ہسپتال پر کیے گئے فضائی حملے میں کم از کم بیس افراد مارے گئے ہیں۔ حلب کے نواحی علاقے السکرائی میں واقع القدس ہسپتال کو نشانہ بنایا گیا۔ اِس ہسپتال کو بین الاقوامی امدادی تنظیم ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز کی امداد حاصل تھی۔ السکرائی باغیوں کے قبضے میں ہے۔ آبزرویٹری نے مقامی لوگوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ ہلاک شدگان میں تین بچے بھی شامل ہیں۔ فضائی حملے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب میں کیے گئے۔ القدس ہپستال کو اب تک چودہ مرتبہ امکاناً حکومتی جنگی طیاروں نے نشانہ بنایا ہے اور اب یہ کسی قابل نہیں رہا ہے۔

آبزرویٹری نے یہ بھی بتایا ہے کہ گزشتہ چھ ایام کے دوران حکومتی جنگی طیاروں کی بمباری میں چوراسی شہری مارے گئے ہیں اور باغیوں کی شیلنگ سے انچاس سویلین کی ہلاکت ہوئی ہے۔ بائیس اپریل سے مجموعی سویلین ہلاکتوں کی تعداد دو سو بنتی ہے اور اِن کا نصف حلب کے گردو نواح میں مارا گیا۔ حلب کا شہر اِس وقت منقسم ہو چکا ہے۔ اقتصادی سرگرمیوں کے بڑے مرکز کے ایک حصے پرصدر بشار الاسد کی فوج قابض ہے تو دوسری حصے میں باغی مورچہ زن ہیں۔ اسد حکومت کی فوج شہر پر مکمل قبضہ کرنے کی کوشش شروع کیے ہوئے ہے۔

Aleppo Syrien Altstadt

حلب کے شہر کے نصف علاقے پر شامی فوج اور بقیہ پر باغی قابض ہیں

دوسری جانب شام کے لیے مقرر اقوام متحدہ کے خصوصی سفیر اسٹیفان ڈے مستورا نے امریکا اور روس سے اپیل کی ہے کہ ناکام ہوتے شامی امن مذاکرات کو بچانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ شام میں شروع ہونے والی حالیہ جھڑپوں کے مذاکراتی عمل پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ ڈے مستورا نے یہ اپیل ویڈیو لنک کے ذریعے سکیورٹی کونسل سے کی ہے۔ اس گفتگو میں اقوام متحدہ کے سفیر نے یہ بھی کہا کہ 60 ایام سے جاری جنگ بندی اب ایک دھاگے سے بندھی رہ گئی ہے اور اِس صورت حال کو سنبھالنے کے لیے روس اور امریکا کی مداخلت ضروری ہے۔

شام میں قیام امن کا جنیوا مرحلہ اِس وقت مکمل طور پر بند گلی میں داخل ہو کر معطل ہو چکا ہے۔ اس بات کے امکانات بڑھ گئے ہیں کہ شام ایک مرتبہ پھر پوری جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ اسد حکومت کی فوج نئے جدید روسی اسلحے کے سہارے مزید علاقوں کی بازیابی کی کوشش میں ہے اور باغیوں کی بھرپور مزاحمت بھی ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ فریقین میں پیش قدمی کی زیادہ سکت بچی نہیں ہے۔ یہ صورت حال جنیوا مذاکرات کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔

DW.COM

اشتہار