شام پر دباؤ، یورپی یونین کی نئی پابندیاں | حالات حاضرہ | DW | 15.11.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام پر دباؤ، یورپی یونین کی نئی پابندیاں

یورپی یونین نے شام میں شہریوں کے خلاف سکیورٹی کریک ڈاؤن کے تناظر میں بشار الاسد کی حکومت پر دباؤ بڑھاتے ہوئے نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ ساتھ ہی وہاں کے شہریوں کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی کارروائی پر زور بھی دیا ہے۔

default

عرب لیگ کی جانب سے رکنیت کی معطلی کے بعد شام عالمی سطح پر زیادہ سے زیادہ تنہا ہوتا جا رہا ہے۔ اب 27 رکنی یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے شام کے مسئلے کا حل نکالنے کے لیے عرب رہنماؤں کے ساتھ تعاون کا عندیہ دیا ہے۔

یورپی یونین کی سربراہ برائے خارجہ امور کیتھرین ایشٹن کا کہنا ہے کہ وہ عرب لیگ کے سربراہ نبیل العربی کے ساتھ رابطے میں رہی ہیں، جس کا مقصد شام کے شہریوں کے تحفظ کے لیے کوئی لائحہ عمل طے کرنا تھا۔

انہوں نے کہا: ’’ہم رابطے میں رہیں گے اور دیکھیں گے کہ کیا جا سکتا ہے۔‘‘

اس کے ساتھ ہی یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے شام کے مزید 18 شہریوں کو بلیک لِسٹ کر دیا ہے، جن میں سے بیشتر کا تعلق فوج سے ہے۔ یوں اس فہرست میں شامل افراد کی تعداد 74 ہو گئی ہے، جن کی یورپی یونین میں موجود جائیدادیں منجمد کرنے کے لیے اس خطے میں ان کے سفر پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔

فرانسیسی وزیر خارجہ Alain Juppe کا کہنا ہے کہ بشار الاسد کی حکومت کی ’خونی ہٹ دھرمی‘ کی وجہ سے تازہ اقدامات ضروری تھے۔

یورپی حکام نے یورپین انویسٹمنٹ بینک (ای آئی بی) میں فنڈز تک دمشق حکومت کی رسائی روکنے پر بھی اتفاق کیا۔

وزرائے خارجہ کے ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ جب تک شہریوں کو دبانے کا سلسلہ رک نہیں جاتا، یورپی یونین کی جانب سے شام کے خلاف اضافی اور مزید جامع اقدامات کیے جاتے رہیں گے۔

دوسری جانب خبر رساں ادارے روئٹرز نے شام میں حکومت مخالف ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ پیر کو اردن کی سرحد سے ملحقہ علاقے Khirbet Ghazaleh میں بشار الاسد کی حامی فورسز اور شدت پسندوں کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم چالیس افراد ہلاک ہوئے۔

رپورٹ: ندیم گِل / خبر رساں ادارے

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس

اشتہار