شام نے کیمیائی ہتھیاروں کی تفصیلات پیش کردی
21 ستمبر 2013
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ’او پی سی ڈبلیو‘ کے عہدیداران کے حوالے سے بتایا ہے کہ شام نے یہ فہرست جمعرات کو پیش کی۔ شام کے پاس یہ تفصیلات فراہم کرنے کے لیے ہفتے کے روز تک کی مہلت تھی۔ تاہم شام نے یہ معلومات دو روز قبل ہی فراہم کر دیں۔
دمشق حکومت نے یہ قدم امریکا اور روس کے اعلیٰ حکام کے درمیان گزشہ ہفتے طے پانے والے ایک منصوبے کے تحت اٹھایا ہے، جس کے تحت شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو عالمی نگرانی میں لے کر انہیں مرحلہ وار تلف کیا جائے گا۔
اس منصوبے کے تحت دونوں بڑی عالمی طاقتوں نے دمشق حکومت کو اپنے پاس موجود کیمیائی اسلحے کی تفصیلی فہرست عالمی تنظیم کو فراہم کرنے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دی تھی۔ منصوبے کے تحت شام 2014ء کے وسط تک اپنے تمام کیمیائی ہتھیار یا تو خود تلف کردے گا یا انہیں عالمی نگرانی میں دے گا۔
کیمیائی ہتھیاروں پر پابندی کے عالمی ادارے کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے: ’’ادارے کو شام کی جانب سے ایک ابتدائی مسودہ موصول ہو گیا ہے۔‘‘
اس بیان کے مطابق ادارے کا تکنیکی شعبہ اب ان تفصیلات کا جائزہ لے رہا ہے۔ اس بیان میں مزید کہا گیا ہے، ’’ یہ فہرست کافی طویل ہے۔‘‘
اس عالمی ادارے نے اتوار کے روز پہلے سے طے اپنے اعلیٰ عہدیداران کی ایک خصوصی میٹنگ ملتوی کر دی ہے۔ اس ملاقات میں شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے کے طریقہ کار کے حوالے سے بات چیت ہونا تھی۔
امریکی وزیر خارجہ جان کیری خبردار کرچکے ہیں کہ اگر شام نے اس منصوبے سے روگردانی کی تو اقوام متحدہ سے اس کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی درخواست کی جائے گی۔
خبر رساں ادرے روئٹرز کے مطابق کیری کا کہنا ہے کہ شام کے کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کے حوالے سے سلامتی کونسل کی ایک سخت قرار داد پر اتفاق رائے کے لیے ان کی اپنے روسی ہم منصب سے تفصیلی بات چیت ہوئی ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان امریکا، چین، روس، فرانس اور برطانیہ اس قرار داد کے حوالے سے کسی متفقہ مسودے تک پہنچنے کے لیے سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں۔
روس اسد حکومت کا ایک دیرینہ اتحادی ہے۔ ماسکو انتظامیہ مسلسل کسی بھی ایسی تجویز کی حمایت سے گریزاں ہے، جس میں شام کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال کی بات ہو۔