شام نے عرب لیگ کے مبصرین کو اجازت دے دی | حالات حاضرہ | DW | 19.12.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام نے عرب لیگ کے مبصرین کو اجازت دے دی

شام نے عرب مبصرین کو اپنے ہاں آنے کی اجازت دی ہے۔ اس حوالے سے دمشق حکومت اور عرب لیگ کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے۔

default

شام کے صدر بشار الاسد

شام کے وزیر خارجہ ولید المعلم نے کہا ہے کہ عرب لیگ کے ساتھ پیر کو طے پانے والے معاہدے کے تحت عرب مبصرین کے ایک مشن کو ملک میں آنے کی اجازت دی جائے گی۔
انہوں نے اس بات کا اعلان دمشق میں ایک نیوزکانفرنس سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ عرب لیگ کے پروٹوکول میں شام کے استحکام کے تحفظ کے لیے ترمیم نہ کی جاتی تو دمشق حکومت اس پر دستخط کے لیے تیار نہ ہوتی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ روس نے اس مشن کی حمایت کی ہے۔
شام کی جانب سے اس اعلان سے قبل ہی یہ خبریں موصول ہو رہی تھیں کہ دمشق حکومت عرب لیگ کے مبصرین کو اپنے ہاں آنے کی اجازت دینے کے معاملے پر نرم پڑتی دکھائی دیتی ہے۔
العربیہ ٹیلی وژن چینل کا کہنا تھا کہ اسے قطر کے وزیر اعظم سے یہ معلومات حاصل ہوئی ہیں کہ صدر بشار الاسد مبصرین سے متعلق ایک معاہدے پر دستخط کر دیں گے ۔
گزشتہ ماہ شام نے عرب لیگ کے ایک منصوبے پر اتفاق کیا تھا، تاہم اس کے نفاذ پر پیش رفت نہیں ہو سکی تھی۔ اس وقت شام نے اس مقصد کے لیے شرائط بھی رکھ دی تھیں، جنہیں عرب لیگ نے مسترد کر دیا تھا۔
سعودی عرب میں ’گلف کوآپریشن کونسل‘ کے اجلاس سے قبل اتوار کو صحافیوں سے گفتگو میں عمان کے وزیر خارجہ نے یہ اُمید ظاہر کی تھی کہ شام چوبیس گھنٹوں میں ایک پروٹوکول پر دستخط کر دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یوں عرب دنیا بیرونی مداخلت سے بچی رہے گی۔


عرب لیگ نے پروٹوکول پر دستخط کے لیے شام کو بدھ تک کا وقت دے رکھا تھا، جس کے تحت شام میں لیگ کے مبصرین کو بھیجا جا سکے گا۔ دوسری صورت میں عرب لیگ شام کے خلاف کارروائی کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے رجوع کر سکتی تھی۔
شام کے سرکاری خبررساں ادارے SANA کے مطابق اتوار کو بشار الاسد نے ایک عراقی وفد سے ملاقات میں کہا تھا کہ دمشق حکومت نے موصولہ تجاویز پر مثبت ردِ عمل ظاہر کیا ہے کیونکہ شام میں ہونے والے حالات سے دُنیا کو آگاہ کرنا شام کے اپنے مفاد میں ہے۔
واضح رہے کہ شام میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مصالحت کے لیے عراق نے بھی سفارتی کوششوں کا آغاز کر رکھا ہے۔ اس حوالے سے عراقی سفیروں نے ویک اینڈ پر دمشق میں فریقین سے ملاقاتیں کی ہیں۔
عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے ہفتے کو بغداد میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ ان کی حکومت بشار الاسد کی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات شروع کرانا چاہتی ہے۔



رپورٹ: ندیم گِل / خبر رساں ادارے
ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس

اشتہار