شام میں شہری ہلاکتوں کی تعداد پانچ ہزار سے تجاوز کر گئی | حالات حاضرہ | DW | 13.12.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

شام میں شہری ہلاکتوں کی تعداد پانچ ہزار سے تجاوز کر گئی

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی کمشنر نے بتایا ہے کہ شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت کی طرف سے حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف گزشتہ نو ماہ سے جاری کریک ڈاؤن کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد پانچ ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

default

پیر کو اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کی سربراہ ناوی پلے نے سکیورٹی کونسل کے سامنے دی گی بریفنگ میں کہا: ’آج میں یہ رپورٹ کرتی ہوں کہ شام میں شہری ہلاکتوں کی تعداد پانچ ہزار سے بڑھ چکی ہے۔‘ دس روز قبل ناوی پلے نے کہا تھا کہ شام میں ہلاکتوں کی تعداد چار ہزار ہے تاہم حالیہ دنوں میں سکیورٹی فورسز کی تشدد آمیز کارروائیوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

ناوی پلے نے شام میں موجودہ صورتحال کو ’ناقابل قبول‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اطلاعات کے مطابق وہاں چودہ ہزار سے زائد افراد حراست میں ہیں جبکہ بارہ ہزار چار سو افراد ہمسایہ ملکوں میں پناہ لینے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

ناوی پلے نے خبردار کیا کہ شامی شہر حمص میں صورتحال سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ یہ وہی شہر ہے جہاں نو ماہ قبل صدر بشار الاسد کے خلاف مظاہروں کا آغاز ہوا تھا اور اسے اب بھی حکومت مخالف مظاہرین کا گڑھ قرار دیا جاتا ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے ناوی پلے نے امکان ظاہر کیا کہ وہاں حکومتی مشینری شاید انسانی جرائم کی مرتکب بھی ہو رہی ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے ناوی پلے کے حوالے سے بتایا: ’آزاد ذرائع سے موصول ہونے والی معتبر معلومات کے مطابق شام میں انسانی حقوق کی پامالی ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کی جا رہی ہے۔‘

عالمی ادارے کے انسانی حقوق کی کمشنر نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ 230 عینی شاہدین کے ذاتی بیانات کے بعد ان معلومات کو ترتیب دیا گیا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ شام کی صورتحال پرعالمی فوجداری عدالت سے رجوع کیا جائے۔ ناوی پلے کے بقول شام میں ہلاک ہونے پانچ ہزار افراد میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی ہلاکت کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم دمشق حکومت کے مطابق سیاسی بحران کے دوران اس کے ایک ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکار مارے چا چکے ہیں۔

ناوی پلے نے خبردار کیا کہ اگر عالمی برادری شامی حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے کوئی متفقہ لائحہ عمل تیار نہیں کرتی تو دمشق حکومت شہریوں پر مظالم ڈھانے میں مزید بہادرہو جائے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ شام میں تشدد کو روکنے کے لیے فوری طور پر ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔

Navi Pillay / Guido Westerwelle / New York

جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی کمشنر ناوی پلے

ناوی پلے کی اس بریفنگ کے بعد جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے نے کہا: ’میں نے شام کی صورتحال کے بارے میں جو کچھ سنا، اس سے مجھے شدید دھچکا لگا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کے ایسے ممالک جو ابھی تک دمشق حکومت کے خلاف اقدامات کرنے سے ہچکچا رہے ہیں انہیں اپنی سوچ تبدیل کرنا ہو گی۔

دیگر مغربی سفارت کاروں نے بھی ناوی پلے کی بریفنگ کے بعد شام کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تاہم شامی سفارت کار بشار جعفری نے ناوی پلے کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے حقیقت سے دور قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کا یہ سیشن شامی حکومت کے خلاف کی جانے والی بڑی سازش کا ایک حصہ ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس