شام میں ریڈ کراس کی ٹیم کے کارکنان کا اغوا
14 اکتوبر 2013
خبر رساں ادارے AFP کے مطابق اغوا ہونے والوں میں چھ کارکنان کا تعلق بین الاقوامی ریڈ کراس تنظیم سے ہے جب کہ ایک شامی عرب ریڈ کریسنٹ تنظیم کا رکن ہے۔ ان افراد کو شام کے شمال مغرب میں ادلیب سے اغوا کیا گیا ہے۔ بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی کے ترجمان ایون واٹسن نے جنیوا میں نيوز ايجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ ان کارکنان کو کس نے اغوا کیا۔ انہوں نے ان کارکنان کی فوری، غیر مشروط اور بحفاظت رہائی کا مطالبہ بھی کیا۔ انٹرنیشنل ریڈ کراس کمیٹی اور ریڈ کریسنٹ کارکنان مغوی کارکنوں کی بحفاظت رہائی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔
اتوار کی صبح شام کے سرکاری ٹی وی نے یہ خبر دی تھی کہ ’دہشت گردوں‘ نے ریڈ کراس کمیٹی کے کارکنان کے ایک قافلے پر حملہ کیا ہے اور کارکنان کو یرغمال بنا لیا ہے۔
AFP کے مطابق ادلیب صوبے کے زیادہ تر حصے پر باغیوں کا قبضہ ہے، جن میں جہادی گروپ بھی شامل ہیں۔ یہ افراد صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے لیے دو برس سے زائد عرصے سے مسلح جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ شام میں مارچ 2011 سے بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے لیے مسلح تحریک جاری ہے، جس کے نتیجے میں اب تک وہاں 115ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ کئی ملین افراد کو اپنے گھر بار چھوڑ کر دیگر ممالک کی جانب ہجرت کرنا پڑی ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ وہاں ریڈ کراس تنظیم مقامی رضاکاروں کے ہمراہ کام میں مصروف ہے۔ مارچ 2011 سے اب تک شامی ریڈ کریسنٹ تنظیم کے 22 رضاکار ہلاک ہو گئے تھے۔
ریڈکراس تنظیم نے اغوا ہونے والے کارکنان کے نام اور شہریت ظاہر نہیں کی ہے۔ واٹس کا کہنا تھا، ’ان کارکنان کے اہل خانہ کو مطلع کر دیا گیا ہے۔‘