شام میں جنگ بندی میں مزید توسیع نہیں ہوگی: ایردوآن | حالات حاضرہ | DW | 22.10.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

شام میں جنگ بندی میں مزید توسیع نہیں ہوگی: ایردوآن

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے خبردار کیا ہے کہ اگر کرد ملیشیا نے آج رات تک شمالی شام سے اپنے ٹھکانے خالی نہ کیے تو ترکی ان کے خلاف ایک زبردست فوجی آپریشن دوبارہ شروع کر دے گا۔

ترک صدر نے یہ بیان روس کے ساحلی شہر سوچی میں دیا جہاں آج ان کی روسی صدر ولادی میر پوٹن سے اہم ملاقات ہو رہی ہے۔

پچھلے ہفتے امریکی کوششوں سے طے پانے والے سیز فائر معاہدے کے تحت ترکی نے کرد ملیشیا کو شمالی شام خالی کرنے کے لیے پانچ دن کی مہلت دی گئی تھی، جو منگل کو رات دس بجے ختم ہو رہی ہے۔ ترک صدر کے مطابق پچھلے پانچ دنوں میں تقریباﹰ پانچ سو کرد جنگجو علاقے سے نکلے ہیں جبکہ کوئی تیرہ سو اب بھی وہاں موجود ہیں۔

گزشتہ روز فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے روسی صدر سے بات چیت میں جنگ بندی کی مدت میں توسیع کی ضرورت پر زور دیا۔ 

آج جب ترک صدر سے اس بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے ایسے کسی امکان کو سختی سے رد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فرانسیسی صدر نے ان کے سامنے ایسی کوئی تجویز نہیں رکھی اور ایسی باتیں کرکے وہ "دہشتگردوں" کی خواہشات کو فروغ دے رہے ہیں۔

ترکی کا موقف ہے کہ 'وائی پی جی‘ ترُک ریاست کے خلاف سرگرم کُردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) سے منسلک ہے۔ ترکی کا کہنا ہے کہ اس کی لڑائی "دہشتگروں" کے خلاف ہے۔                       

اس سے قبل ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے ترجمان ابراہیم کلِن نے کہا کہ منگل کو روس اور ترک صدور کے درمیان ملاقات میں شام میں ایک سیف زون کے قیام پر بات ہو گی۔ ترکی چاہتا ہے کہ اس سیف زون میں ترکی میں موجود شامی پناہ گزینوں کو بسایا جائے۔

ادھر جرمن وزیر دفاع آنے گرَیٹ کرامپ کارین باؤر نے شمالی شام میں ایک انٹرنیشنل سکیورٹی زون بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ بقول ان کے داعش کے خلاف جاری لڑائی متاثر نہ ہو۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس تجویز پر عملدرآمد کے لیے روس اور ترکی کا تعاون ضروری ہوگا۔

ڈی ڈبلیو کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ شمالی شام کے حالات کا یورپ اور جرمنی کی سکیورٹی سے براہ راست  تعلق  ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپ شام میں ترکی کی فوجی پیش قدمی پر خاموش تماشائی نہیں رہ سکتا۔

گزشتہ روز روس نے بھی شام میں ترکی کی فوجی پیش قدمی کے اثرات پرتشویش ظاہر کی تھی۔ ایک بیان میں روسی وزیر دفاع سیرگئی شوئیگو نے کہا کہ ترکی کی کارروائی کی وجہ سے شمالی شام میں داعش کے دہشت گردوں کے لیے قائم حراستی مراکز کی سکیورٹی متاثر ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ ترک فوج کی کارروائی میں آٹھ پناہ گزین کیمپ اور  بارہ جیلوں کی سکیورٹی  کا نظام متاثر ہوا۔ روسی حکام کے مطابق ان جیلوں میں قریب پندرہ ہزار  مبینہ دہشت گردوں کو بھاگنے کا موقع ملا۔

شمالی شام میں نو اکتوبر سے ترک فوج کی پیش قدمی کے نتیجے میں کم از کم ایک لاکھ ساٹھ ہزار لوگ بے گھر اور  متعدد مارے گئے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس عسکری کارروائی کے دوران ترک افواج جنگی جرائم کی مرتکب ہوئی ہیں۔

ترک حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس قسم کے الزامات کو نہایت سنجیدگی سے لیتے ہیں اور اگر افواج سے کوئی زیادتی ہوئی ہے تو اس کی بھرپور تحقیقات کی جائیں گی۔

Infografik Karte Syrische Sicherheitszonen, ganz Syrien EN

DW.COM