’شام میں بڑے پیمانے پر خانہ جنگی شروع ہوسکتی ہے‘ | حالات حاضرہ | DW | 18.11.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’شام میں بڑے پیمانے پر خانہ جنگی شروع ہوسکتی ہے‘

شام میں حکومت مخالف فوجیوں کے ایک گروپ نے حکمران بعث پارٹی کے دفتر پر حملہ کیا ہے جبکہ روس نے مغربی طاقتوں کو خبر دار کیا ہے کہ شام کے داخلی معاملے کو بین الاقوامی رنگ دینے سے وہاں بڑے پیمانے پر خانہ جنگی شروع ہو سکتی ہے

default

جمعرات کو شام میں حکومت مخالف متعدد فوجیوں نے بعث پارٹی کے نوجوانوں کے ایک دفتر کو نشانہ بنایا ہے۔ دمشق سے موصولہ اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ ملک کے شمال مغرب میں ترکی کی سرحد سے ملحقہ صوبہ الدیب میں پیش آیا۔

شام میں انسانی حقوق کے لیے سرگرم تنظیم سیریئن اوبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق باغی فوجیوں نے بعث پارٹی کے دفتر پر راکٹ اور دستی بموں سے حملہ کیا، اس وقت وہاں سکیورٹی ایجنٹس کی میٹنگ جاری تھی۔ شام کی سرکاری خبر ایجنسی صنعا نے البتہ اسے میڈیا کو فراہم کی گئی ناقص اطلاع قرار دیتے ہوئے ان خبروں کو مسترد کر دیا ہے۔

بدھ کو صدر بشار الاسد کے مخالف چند فوجیوں نے دارالحکومت دمشق کے اطراف میں ملکی فضائیہ کے ایک انٹیلی جنس مرکز پر بھی حملہ کر دیا تھا۔شام پر بڑھتے ہوئے بین الاقوامی دباؤ اور داخلی طور پر مسلح بغاوت کے آثار کو دیکھتے ہوئے اس کے دیرینہ ساتھی تصور کیے جانے والے ملک روس نے فریقین سے تشدد کی راہ ترک کرنے کا کہا ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کیتھرین ایشٹن سے ملاقات کے بعد روسی وزیر خارجہ سیرگئی لاف روف کا کہنا تھا کہ اگر شام میں حکومت مخالفین ایسی ہی کارروائیاں کرتے رہے تو وہاں بڑے پیمانے کی خانہ جنگی جنم لے سکتی ہے۔

کیتھرین ایشٹن کا اس موقع پر کہنا تھا کہ اب وقت ہے کہ شامی صدر اقتدار چھوڑ دیں۔ انہوں نے عرب لیگ کے سربراہ نبیل العربی کو دعوت دے رکھی ہے کہ وہ یورپی رہنماوں کے ساتھ ایک ملاقات میں شامی صدر پر دباؤ بڑھانے کی کوششوں کا احاطہ کریں۔ اسی سلسلے میں فرانس کی انفرادی کوششیں بھی جاری ہیں۔ فرانسیسی وزیر خارجہ الاں ژوپے اس سلسلے میں پہلے ترکی اور بعد میں متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، قطر اور کویت کا دورہ کریں گے۔

اقوام متحدہ میں سفارتی ذرائع نے بتایا ہے کہ عرب ممالک کے تعاون سے جلد ایک نئی شام مخالف قرار داد منظور کی جائے گی، جس میں شہری ہلاکتوں کی پاداش میں شامی حکومت کی مذمت کی جائے گی۔

شامی حکومت کے ایک کڑے ناقد ہاشم ال مالیح دمشق حکومت کے مخالفین کی حالیہ کارروائیوں کو خانہ جنگی نہیں سمجھتے۔ ان کے بقول حکومت مخالفین نے ملکی فضائیہ کے جس مرکز کو نشانہ بنایا تھا وہاں بہت سارے سیاسی قیدیوں کو رکھا گیا تھا اور یوں یہ شہریوں کی سلامتی کو ممکن بنانے کے لیے ایک اچھا ہدف تھا۔ اقوام متحدہ کے مطابق شام میں حکومت مخالف تحریک کے دوران اب تک ساڑھے تین ہزار سے زائد شہری مارے جاچکے ہیں۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

اشتہار