1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

شام میں بحرانی صورتحال، واشنگٹن حکومت کی طرف سے مزید امداد کا اعلان

29 ستمبر 2012

امریکا نے شام میں انسانی بحران کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پینتالیس ملین ڈالر کی نئی امدادجاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری طرف شام کے متعدد علاقوں کے ساتھ ساتھ حلب میں لڑائی کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

https://p.dw.com/p/16HLx
تصویر: Getty Images

جمعے کو امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے اعلان کیا کہ واشنگٹن حکومت شام میں گزشتہ اٹھارہ ماہ سے جاری تنازعے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بحرانی صورتحال کے تناظر میں اضافی امدادی رقوم مختص کرے گی۔ فرینڈز آف سیریا کی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے عالمی برادری پر یہ زوربھی دیا کہ وہ شام میں قیام امن کے لیے اپنی کوششوں میں تیزی لائے۔

امریکی وزیر خارجہ نےکہا کہ شام میں پر تشدد واقعات کے نتیجے میں متاثر ہونے والے افراد کی طبی مدد ، ادویات اور ضروریات زندگی کی دیگر اشیاء کی سپلائی کے لیے تیس ملین ڈالر کی اضافی امداد فراہم کی جائےگی جبکہ پندرہ ملین ڈالر کی رقم شام کی غیر مسلح اپوزیشن کو دی جائے گی۔ امریکی حکومت کی طرف سے شام میں امداد کے طور پر دی جانے والی رقوم 132 ملین ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں۔

امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ایک بیان کے مطابق یہ امدادی رقوم شام میں محصور ہو کر رہ جانے والی کمیونٹیوں کے لیےہو گی۔ امریکا کی طرف سے شام کے لیے نئی امدادی رقوم مختص کیے جانے کا اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے، جب اپوزیشن نے تاریخی شہر حلب میں ’حتمی جنگ‘ شروع کی ہے۔

UN Vollversammlung New York Vereinte Nationen
امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹنتصویر: Reuters

شام میں بگڑتی ہوئی صورتحال کی خبروں کے باوجود واشنگٹن باغیوں کواسلحہ یا عسکری مدد فراہم کرنے کے انکار پر قائم ہے۔ اس کی وجہ شاید وہ خدشہ ہے کہ باغیوں کے پا س اسلحہ آ جانے سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے بھی لندن حکومت کی طرف سے آٹھ ملین ڈالر کی رقم فراہم کرنے کی رضا مندی ظاہر کی ہے۔ برطانیہ شام میں انسانی بحران کی کیفیت سے نمٹنے کے لیے پہلے ہی تیس ملین ڈالر سے زائد کی رقم بطور امداد دینے کا وعدہ کر چکا ہے۔ فرینڈز آف سیریا کی میٹنگ کے بعد ولیم ہیگ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شامی عوام پہلے ہی بہت کچھ قربان کر چکے ہیں اور اس مخصوص صورتحال میں عالمی برادری انہیں تنہا نہیں چھوڑ سکتی ہے۔

اس موقع پر جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے نے کہاکہ عالمی برداری کو شام میں قیام امن کے لیے طویل المدتی بنیادوں پر کام کرنا چاہیے تاہم اس دوران اسے شامی عوام کی موجودہ ضروریات کا خیال بھی رکھنا چاہیے۔

شام میں سکیورٹی کی مخدوش صورتحال کے باعث لوگوں کی ایک بڑی تعداد ہجرت پر مجبور ہو رہی ہے اور یہ امر عالمی برادری کے لیے انتہائی تشویش کا باعث بنتا جا رہا ہے۔اندازوں کے مطابق شام میں 1.5 ملین انسان بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ تین لاکھ کے قریب ہمسایہ ممالک نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔اقوام متحدہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ رواں برس کے اختتام تک مہاجرین کی یہ تعداد سات لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔

( ab / ng (AFP