شام: داعش نے تقریباﹰ دو ہزار افراد کو یرغمال بنا لیا | حالات حاضرہ | DW | 12.08.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام: داعش نے تقریباﹰ دو ہزار افراد کو یرغمال بنا لیا

شدت پسند تنظیم داعش نے شام کے شمالی علاقے منبج میں تقریباﹰ دو ہزار افراد کو یرغمال بنا لیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق داعش ان شہریوں کو ’’ہیومن شیلڈ‘‘ کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔

داعش کے زیر کنٹرول شامی علاقے منبج میں عرب کرد اتحاد سیرئین ڈیموکریٹک فورس (ایس ڈی ایف) گزشتہ ایک ہفتے داعش کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس شہر کے متعدد علاقوں کا کنٹرول داعش سے واپس حاصل کر لیا گیا ہے لیکن کئی علاقوں میں داعش کے عسکریت پسند ابھی تک مزاحمت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ جمعے کے روز داعش کے عسکریت پسندوں کو منبج کے شمال سے بھی پسپائی اختیار کرنی پڑی اور انہوں نے فرار ہوتے ہوئے تقریبا دو ہزار عام شہریوں کو مغوی بنا لیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ مغویوں کو ترک سرحد کے قریب واقع شامی علاقے جرابلس میں رکھا گیا ہے۔

ایس ڈی ایف کی ملٹری کونسل کے ترجمان شیرفان درویش کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ جرابلس کی طرف جاتے ہوئے انہوں نے ان شہریوں کو اغوا کر لیا تھا اور اب مغوی شہریوں کو وہ ہیومن شیلڈ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں تاکہ ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جا سکے۔‘‘

دوسری جانب شام کے حالات پر نگاہ رکھنے والی تنظیم سیرئین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے بھی اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ داعش کی طرف سے تقریبا دو ہزار افراد کو یرغمال بنا لیا گیا ہے۔

عراق اور شام میں شدید دباؤ کا سامنا کرنے والی یہ شدت پسند تنظیم ماضی میں بھی ایسی کارروائیاں کر چکی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق داعش جب بھی زیر دباؤ آتی ہے، اس طرح کی کارروائیاں شروع کر دیتی ہے۔ اسی طرح رواں برس جنوری میں بھی داعش نے دیر الزور کے علاقے میں تقریباﹰ چار سو شہریوں کو مغوی بنا لیا تھا۔ ان میں بچے اور خواتین بھی شامل تھے جبکہ بعد ازاں ان میں سے تقریباﹰ تین سو افراد کو رہا کر دیا گیا تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق داعش کے ایسے اقدامات کا مقصد مخالف فورس کی پیش قدمی کو سست کرنا ہوتا ہے۔ جون میں عراقی شہر فلوجہ میں بھی داعش نے ہزاروں افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔

دوسری جانب شامی شہر حلب میں روسی اور شامی فورسز کی بمباری کے نتیجے میں کم از کم پندرہ عام شہریوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ یہ شہر باغیوں اور حکومتی فورسز کے مابین تقسیم ہو چکا ہے۔ اس کے کئی حصوں پر باغیوں کا کنٹرول ہے اور کئی پر حکومتی فورسز کا۔

حکومتی فورسز حلب کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے گزشتہ کئی ہفتوں سے شدید کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔