شام: باغيوں کا دمشق ميں فوجی ہيلی کاپٹر گرانے کا دعویٰ | حالات حاضرہ | DW | 27.08.2012
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام: باغيوں کا دمشق ميں فوجی ہيلی کاپٹر گرانے کا دعویٰ

شام ميں صدر بشار الاسد کی حامی افواج اور باغيوں کے درميان لڑائی بدستور جاری ہے جبکہ دارالحکومت دمشق ميں باغی تحريک کے جنگجوؤں نے يہ دعویٰ کيا ہے کہ انہوں نے حکومتی فوج کے ايک ہيلی کاپٹر کو مار گرايا ہے۔

شامی باغی تحريک ميں شامل فری سيريئن آرمی کی بدر بٹالين کے ايک ترجمان عمر الاقابونی نے خبر رساں ادارے اے ايف پی سے بات کرتے ہوئے کہا، ’يہ کاروائی ہم نے ضرايا ميں حکومتی فوج کی جانب سے کيے جانے والے قتل عام کا بدلہ لينے کے ليے کی ہے‘۔ ادھر شام کے سرکاری ٹيلی وژن نے ہيلی کاپٹر تباہ ہونے کے اس واقعے کی تصديق کرتے ہوئے کہا کہ يہ واقعہ دمشق کے نواحی علاقے ضلع قابون ميں پيش آيا۔ حکومتی موقف کے مطابق يہ ايک حادثہ تھا۔ دمشق کے نواح میں واقع ضلع قابون ميں اسد کی حامی افواج اور باغيوں کے درميان شديد گولہ باری جاری ہے۔

خبر رساں ادارے اے ايف پی کے ايک نمائندے کے مطابق دمشق ميں آج صبح سے شديد بمباری کی آوازيں سنائی دے رہي ہيں جبکہ سيريئن آبزرويٹری فار ہيومن رائٹس نے بھی ان خبروں کی تصديق کرتے ہوئے بتايا کہ دمشق کے نواحی علاقوں قابون اور جبر ميں جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔

ترکی ميں اس وقت اسی ہزار شامی پناہ گزين موجود ہيں

ترکی ميں اس وقت اسی ہزار شامی پناہ گزين موجود ہيں

دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقوں ميں جھڑپوں کا سلسلہ ضرايا ميں رونما ہونے والے اس واقعے کے بعد پيش آيا جس ميں مبينہ طور پر صدر بشار الاسد کی حامی افواج نے کارروائی کرتے ہوئے تين سو سے زائد افراد کو قتل کر ديا تھا۔ سيريئن آبزرويٹری فار ہيومن رائٹس کے بقول اس واقعے ميں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 334 ہے جن ميں سے 241 کی شناخت ہو چکی ہے۔

دوسری جانب ترکی کے ايک اعلیٰ سفارت کار نے خبر رساں ادارے اے ايف پی کو بتايا ہے کہ اس کی سرحد پر شام سے آنے والے قريب سات ہزار مزيد پناہ گزين جمع ہيں۔ واضح رہے کہ ترکی ميں 80 ہزار شامی پناہ گزين پہلے ہی سے مختلف کيمپوں ميں اپنی زندگی گزار رہے ہيں۔ ترک سفارت کار نے اپنی شناخت مخفی رکھتے ہوئے بتايا کہ پناہ گزينوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے نمٹنے کے ليے گازياں ٹاپ اور ہاٹے ميں دو مزيد کيمپ لگائے جا رہے ہيں۔ ترک انتظاميہ اس سے قبل يہ بات کہہ چکی ہے کہ وہ ايک لاکھ سے زائد افراد کو پناہ فراہم نہيں کر سکے گی۔

as/aa/AFP