شام بارے اقوام متحدہ کے انکوائری کمیشن سے خاتون رکن کی علیحدگی | حالات حاضرہ | DW | 27.03.2012
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام بارے اقوام متحدہ کے انکوائری کمیشن سے خاتون رکن کی علیحدگی

شام میں حکومت مخالفین کے خلاف اسد حکومت کے کریک ڈاؤن کے دوران ہونے والی ہلاکتوں اور دیگر معاملات کی انکوائری کے لیے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کے تین رکنی کمیشن سے ایک خاتون رکن نے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔

default

سرگیو پِن ہائیرو

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے ہیومین رائٹس کونسل نے شام میں جاری حکومتی جبر کی تفتیش کے لیے ایک تین رکنی کمیشن قائم کر رکھا ہے۔ ابھی گزشتہ جمعے کے روز اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے نے اس کمیشن کے مینڈیٹ میں توسیع کا اعلان بھی کیا تھا۔ اس کمیشن کے اراکین میں شامل برازیل کے سرگیو پِن ہائیرو (Sergio Pinheiro) کو انکوائری کمیشن کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔ دیگر دو ممبران میں امریکہ کی کیرن ابو زید (Karin Abu Zeid) اور ترک ماہر سماجیات یقین ارتُرک (Yakin Erturk) شامل تھیں۔ شام میں بشار الاسد کی حکومت نے اس انکوائری کمیشن کو داخلے کی اجازت نہیں دی تھی۔

UN-Menschenrechtsrat Genf Debatte Menschenrechte und humanitäre Situation Syrien Februar 2012

اقوام متحدہ کے ادارے ہیومین رائٹس کونسل کے انکوائری کمیشن نے شام بارے دو رپورٹوں کو جاری کیا ہے

اس کمیشن میں شامل ترک ماہر سماجیات یقین ارتُرک نے علیحدگی اختیار کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس مناسبت سے ان کا کہنا ہے کہ شام میں کریک ڈاؤن کے دوران کیا کچھ ہوا ہے، اس بارے میں معلومات تک اسد حکومت رسائی دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ یقین ارتُرک کا یہ بھی کہنا ہے کہ بشار الاسد کی حکومت اس کوشش میں ہے کہ غیر ملکی تفتیش کاروں کو حکومتی ایکشن سے متاثر ہونے والے شہروں اور قصبوں سے دور رکھا جائے۔ ارتُرک نے اس حکومتی عمل کو شفاف تفتیش کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا۔

انکوائری کمیشن سے علیحدگی اختیار کرنے پر یقین ارتُرک کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ شام کے متاثرہ علاقوں تک رسائی نہ ہونا ہی اصل میں اس کمیشن کے اختیارات کو محدود کر دیتا ہے۔ انہوں نے اب تک کمیشن کی کارروائی کو محدود اور مشکل حالات میں انتہائی مثبت قرار دیا ہے۔ ارتُرک کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کی رائے میں وہ موجودہ حالات میں اس کمیشن کے لیے کچھ بھی نہیں کر سکتیں۔ ارتُرک نے کمیشن کے دیگر تفتیش کاروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ شام کے حالات کی کڑی مانیٹرنگ کریں تاکہ صورت حال سے آگہی کے حصول کا تعلق قائم رہے۔

UN-Menschenrechtsrat Genf Debatte Menschenrechte und humanitäre Situation Syrien Februar 2012

اقوام متحدہ کے ادارے ہیومین رائٹس کونسل کے خصوصی اجلاس میں شام کی صورت حال پر زوردار بحث کی جا چکی ہے

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کا انکوائری کمیشن شام بارے اب تک دو رپورٹیں مرتب کر چکا ہے۔ ایک رپورٹ اسی مینے جاری کی گئی تھی۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اسد حکومت کی فوج نے نہتے بچوں اور عورتوں کو اپنی فائرنگ کا ٹارگٹ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ حکومت کی وفادار سکیورٹی فورسز اعلیٰ حکومتی اہلکاروں کی ہدایت پر زخمیوں پر جبر و تشدد کے سلسلے کو بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

یقین ارتُرک عالمی سطح پر انسانی حقوق کی ایک سرکردہ ماہر تسلیم کی جاتی ہیں۔ ماضی میں اقوام متحدہ کے لیے مختلف ملکوں اور معاشروں میں خواتین کے خلاف متشددانہ پالیسیوں کے بارے میں بھی وہ اپنے رپورٹیں مرتب کر چکی ہیں۔ وہ امریکہ کی مشہور کورنل یونیورسٹی کی فارغ التحصیل ہیں اور سن 1986 سے انقرہ کی ٹیکنیکل یونیورسٹی کے شعبہ سوشیالوجی سے وابستہ ہیں۔ کونسل آف یورپ کے ساتھ ان کی وابستگی بھی اب تک جاری ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: مقبول ملک