شام: انسانی حقوق کی کونسل میں مذمتی قرارداد | حالات حاضرہ | DW | 03.12.2011
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

شام: انسانی حقوق کی کونسل میں مذمتی قرارداد

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل نے شام میں حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف جاری حکومتی کریک ڈاؤن کی کڑے الفاظ میں مذمت کی ہے جبکہ رائل ڈچ شیل نامی آئل کمپنی نے یورپی یونین کی پابندیوں کے بعد شام میں اپنا کام روک دیا ہے۔

default

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل نے شامی صدر بشار الاسد کی طرف سے پر امن مظاہرین کے خلاف طاقت کے ناجائز استعمال پر جمعہ کو بھاری اکثریت کے ساتھ ایک مذمتی قرارداد منظور کی۔ سوئٹزر لینڈ کے شہر جنیوا میں منعقد ہوئے ایک ہنگامی اجلاس میں اس قرارداد کے حق میں 37 ووٹ پڑے جبکہ چار رکن ملکوں نے مخالفت کی اور چھ اراکین غیر حاضر رہے۔ یہ دستاویز مزید اقدامات کے لیے اب عالمی ادارے کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کو بھجوا دی جائے گی۔ اس قرارداد کی مخالفت کرنے والے ممالک میں سے روس اور چین کا کہنا ہے کہ شام میں بھی لیبیا کی طرز پر فوجی کارروائی کا راستہ کھل سکتا ہے۔

شام کی صورتحال پر رواں برس کے دوران تیسری مرتبہ منعقد ہوئے انسانی حقوق کی کونسل کے ہنگامی سیشن کے نتائج کو امریکہ نے سراہا ہے۔ اقوام متحدہ میں امریکی سفیر Eileen Chamberlain Donahoe نے کہا، ’جو شواہد ہمیں موصول ہو رہے ہیں، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ شام کی صورتحال سنگین ہو چکی ہے‘۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی برادری کو اس حوالے سے احتساب کو یقینی بنانا چاہیے۔

اس قرارداد کی منظوری کے بعد اب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو یہ استحقاق حاصل ہو گیا ہے کہ وہ شام میں ہونے والے مبینہ مظالم کی جانچ کے لیے بین الاقوامی فوجداری عدالت سے رجوع کرے۔ کونسل میں شامل تمام عرب ممالک یعنی سعودی عرب، اردن، کویت ، لیبیا اور قطر نے اس قرارداد کی توثیق کی۔

جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے نے اس حوالے سے کہا ہے کہ جو لوگ اس طرح سے انسانی حقوق کی پامالیوں کے مرتکب ہوتے ہیں، ان کو انصاف کے کٹہرے میں لانا چاہیے اور ان کے خلاف پابندیاں عائد کرنی چاہییں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب وقت آ گیا ہےکہ سلامتی کونسل اس بارے میں کسی متقفہ لائحہ عمل کے ساتھ سامنے آئے۔ تاہم روس اور چین کی طرف سے مخالفت کے باعث ایسا ممکن نہیں ہو سکتا۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق شام میں رواں برس مارچ سے شروع ہونے والے مظاہروں کے دوران مجموعی طور پر چار ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سینکڑوں بچے بھی شامل ہیں۔ کونسل کی سربراہ ناوی پلے نے زور دیا ہے کہ شام میں مظالم ڈھائے جانے کا سلسلہ فوری طور پر ختم ہونا چاہیے۔

دوسری طرف شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں جاری سیاسی بحران کے حل کے لیے فوجی آپریشن ناگزیر ہے اور اگر کسی نے ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت کی تو صورتحال مزید بگڑ جائے گی۔

اس صورتحال میں آئل کمپنی ڈچ رائل شیل نے یورپی یونین کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں کے تناظر میں شام میں اپنے آپریشنز روک دیے ہیں۔ کمپنی کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے، ’ہماری اولین ترجیح ہمارے ملازمین کی سلامتی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ شام کی صورتحال جلد ہی ٹھیک ہو جائے گی‘۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس