شامی مہاجرین کو سحر و افطار کی تیاری میں مشکلات | معاشرہ | DW | 25.04.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

شامی مہاجرین کو سحر و افطار کی تیاری میں مشکلات

مسلمان روایتی طور پر رمضان عقیدت و احترام اور مذہبی جوش و خروش مناتے ہیں۔ کیمپوں میں رہنے والے شامی مہاجرین کو اس ماہ میں خاصی مشکلات کا سامنا ہے، اکثر اپنی من پسند چیزوں کو ترس رہے ہیں۔

عائشہ العبد لبنان کے ایک مہاجر کیمپ میں مقیم ہیں۔انہیں مہاجر کیمپ میں سحر و افطار کی تیاری میں مشکلات کا سامنا ہے۔ وہ دو بچوں کی ماں ہیں اور انہیں کئی قسم پریشانیاں پیش آ رہی ہیں۔

کورونا بحران کے دوران ماہ رمضان کا آغاز

مشکل صورت حال

عائشہ العبد نام شامی خاتون نے نیوز ایجنسی اے پی کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا یہ کہنا ہے کہ روزے میں بہتر خوراک کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے کھانے سے ہی جسم میں غذائیت کی کمی رفع ہوتی ہے۔ شامی مہاجرین کو ان روزوں میں شدید مصائب کا سامنا ہے۔ کیمپ میں افطار کے وقت ان مہاجرین کو چاول، دال اور آلو کے چپس ہی دستیاب ہیں۔

Deutschland Ramandan in Corona-Zeiten

مسلم خاندانوں میں روزے کی افطاری کے لیے خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے

اسی کیمپ میں ایک اور خاتون راہف الصغیر کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹیاں گوشت، چکن، بسکٹس اور پھل کھانے کی طلب کرتی ہیں لیکن کہاں سے یہ خرید کر لائی جائیں۔ الصغیر بیوہ ہیں اور ان کی تین بیٹیاں ہیں۔

رمضان میں عمرہ کے لیے کووڈ ویکسین لگوانا لازمی

رمضان اور مہنگائی

لبنان میں شامی مہاجرین کے کیمپ کے ایک مکین رعد مطار کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ رمضان میں بہت زیادہ مہنگائی ہے اور لوگ اس کی وجہ سے بہت زیادہ پریشان ہیں۔ لبنان میں دس لاکھ سے زائد شامی مہاجرین مقیم ہیں۔ یہ امر اہم ہے کہ ان مہاجرین کے میزبان ملک لبنان کو شدید اقتصادی مشکلات درپیش ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کورونا وبا نے مجموعی سماجی صورت حال بھی خراب سے خراب تر ہو چکی ہے۔

جرمنی: کیا لاک ڈاؤن میں رمضان نے مسلمانوں کی زندگی آسان کر دی ہے؟

لبنان کی اقتصادی مشکلات کی وجہ سے روزمرہ کے استعمال کی اشیا کی قیمتیں آسمان کو چُھو رہی ہیں اور مہنگائی کی شرح سن 2020 میں نواسی فیصد پر تھی، جو اب اور زیادہ ہو گئی ہے۔ ان حالات میں لبنانی کرنسی کی قدر بھی شدید گر چکی ہے۔ حال ہی میں جاری کردہ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں بیان کیا گیا ہے کہ شامی مہاجرین انتہائی غربت میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔

Syrische Flüchtlinge im Irak

لبنان میں کیمپوں میں شامی مہاجرین خاص طور پر رمضان میں شدید پریشانی سے دوچار ہیں

لبنانی لوگ مہربان ہیں

رعد مطار کا کہنا ہے کہ اس مہنگائی کی وجہ سے لبنان کے مقامی لوگوں کے حالاتِ زندگی بہت خراب ہیں اور ایسے میں شامی مہاجرین کی کیفیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ مطار کا کہنا ہے کہ وہ جس طرح زندگی کے دن بسر کر رہے ہیں، اس کا اندازہ صرف انہی کو ہے۔ مطار کے مطابق عام لبنانی افراد انتہائی کم آمدنی والی ملازمتوں کے حصول کی کوشش میں ہیں۔ لبنان میں مشکل حالات کی وجہ سے العبد کا خاندان پانچ مرتبہ ایک کیمپ سے دوسری مہاجر بستیوں میں منتقل ہو چکا ہے۔

ع ح، ع ا (اے پی)