سياسی پناہ کی نئی فرانسيسی پاليسی: کچھ کٹھی، کچھ ميٹھی | مہاجرین کا بحران | DW | 19.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

سياسی پناہ کی نئی فرانسيسی پاليسی: کچھ کٹھی، کچھ ميٹھی

فرانس نے از سر نو ترتيب دی گئی پناہ کی ايک نئی پاليسی کے تحت انيس تارکين وطن کو اپنے ہاں پناہ فراہم کی ہے۔ تاہم اسی پاليسی کے تحت معاشی مقاصد کے ليے ہجرت کرنے والے ہزاروں تارکين وطن کو فرانس سے ملک بدر بھی کيا جائے گا۔

جامل نامی افريقی تارک وطن اپنی اہليہ اور چار بچوں کے ہمراہ فرانسيسی دارالحکومت پيرس کے چارلز ڈی گال ايئر پورٹ پر پہنچا۔ يورپی ملک فرانس آمد پر خبر رساں ادارے اے ايف پی سے بات چيت ميں اس نے مقامی لوگوں سے مخاطب ہو کر کہا، ’’يہاں ہمارا کوئی خاندان نہيں، اب آپ ہی ہمارا خاندان ہيں۔‘‘ جامل کا تعلق بد امنی کے شکار ملک وسطی افريقی جمہوريہ سے ہے اور وہ پچھلے چار سالوں سے چاڈ کے ايک مہاجر کيمپ ميں گزر بسر کر رہا ہے۔

جامل کو چاڈ کے دارالحکومت ميں قائم ايک مہاجر کيمپ سے پيرس منتقل کيا گيا ہے۔ يہ منتقلی سياسی پناہ کی ايک ایسی نئی پاليسی کے تحت عمل ميں آئی ہے، جس کے ذریعےسن 2019 تک تين ہزار افريقی مہاجرين کو جانچ پڑتال کے بعد قانونی طريقے سے فرانس ميں پناہ دی جائے گی۔ پروگرام کا مقصد مہاجرين کی جانيں بچانا ہے تاکہ وہ يورپ پہنچنے کے ليے بحيرہ روم کا خطرناک راستہ اختيار نہ کريں۔ افريقی ممالک چاڈ اور نائجر ميں قائم ’ہاٹ اسپاٹس‘ پر اقوام متحدہ کے ہائی کميشن برائے مہاجرين يو اين ايچ سی آر کے ساتھ رجسٹرڈ مہاجرين کی سياسی پناہ کی درخواستوں پر کارروائی کی جائے گی اور مثبت فيصلے کے بعد ہی ان کی يورپ ہجرت ممکن ہو سکے گی۔

دريں اثناء فرانسيسی حکومت نے اسی پاليسی کے ساتھ ساتھ ايک اور پروگرام بھی متعارف کرايا ہے، جس کے ذريعے حقيقی پناہ گزينوں اور معاشی مقاصد کے ليے يورپ جانے کے خواہاں تارکين وطن کی شناخت کی جائے گی۔ صدر امانوئل ماکروں گزشتہ ماہ ہی يہ کہہ چکے ہيں کہ ان کا ملک مستحق لوگوں کو خوش آمديد کرنے کی روايت جاری رکھے گا تاہم جو درخواست گزار سياسی پناہ کے حقدار قرار نہيں پاتے، ان کی ملک بدری کا عمل بھی جاری رہے گا۔

فرانس ميں اگرچہ اس نئی پاليسی کے خلاف عوامی سطح پر زيادہ رد عمل سامنے نہيں آيا البتہ امدادی تنظيموں اور  بائيں کی جانب جھکاؤ رکھنے والی جماعتوں نے اس کی مذمت کی ہے۔ کيتھولک امدادی تنظيم کاريٹاس نے ديگر تنظيموں کے ساتھ مل کر صدر ماکروں کے نام ايک کھلا خط لکھا ہے، جس ميں ان سے کہا گيا ہے کہ وہ فرانسيسی اقدار اور روايات کو نظر انداز نہ کريں۔   

فرانس سے اس سال ملک بدر کيے جانے والے افراد کی تعداد ميں پچھلے سال کے مقابلے ميں گيارہ فيصد کا اضافہ نوٹ کيا گيا ہے۔ پچھلے سال اس ملک ميں سياسی پناہ کی مجموعی طور پر پچياسی ہزار درخواستيں جمع کرائی گئيں، جن ميں سے چھتيس ہزار کو پناہ ملی۔

Infografik Fluchtrouten EU ENG
اشتہار