سوئٹزرلینڈ: دنیا کی طویل ترین ریلوے سرنگ کا افتتاح | معاشرہ | DW | 01.06.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

سوئٹزرلینڈ: دنیا کی طویل ترین ریلوے سرنگ کا افتتاح

سوئٹزرلینڈ میں دنیا کی طویل ترین سرنگ کا افتتاح ہو گیا ہے۔ یہ سرنگ پہاڑی سلسلے ایلپس کوکاٹ کر بنائی گئی ہے۔ اس طرح اب بحیرہء روم اور بحیرہء شمالی کے درمیان واقع اہم یورپی شہروں کے مابین تیز ترین سفر ممکن ہو گیا ہے۔

سوئٹزرلینڈ کے صدر یوہان شنائڈر نے بدھ کے روز ’گوٹہارڈ بیس ٹنل‘ کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا، ’’یورپ اور سوئٹزرلینڈ میں بڑی بڑی کامیابیوں کا حصول ابھی بھی ممکن ہے۔‘‘ سوئس صدر کے اشارے پر پانچ پانچ سو مسافروں کو لے کر دو ریل گاڑیاں شمالی اور جنوبی سمت سے اس سرنگ میں داخل ہوئیں۔ ان مسافروں میں جرمن چانسلر انگیلا میرکل، فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ اور اطالوی وزیر اعظم ماتیو رینزی بھی شامل تھے۔

Schweiz Pollegio Gotthard Tunnel Angela Merkel

مسافروں میں جرمن چانسلر انگیلا میرکل، فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ اور اطالوی وزیر اعظم ماتیو رینزی بھی شامل تھے

اس تناظر میں جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے ایک سوئس نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا ،’’یہ شمال کو جنوب سے ملانے کے حوالے سے ایک خوبصورت دن ہے۔‘‘ اطالوی وزیر اعظم ماتیو رینزی کے مطابق،’’سوئٹزرلینڈ کے تعیمراتی منصوبے یورپ کے لیے معنی رکھتے ہیں اور ایک ایسے موقع پر جب اس براعظم کو مہاجرین کے بحران کا سامنا ہے۔‘‘ اس موقع پر میرکل اور رینزی نے تسلیم کیا کہ ان کے ممالک کو بھی ریلوے نیٹ ورک کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے تاکہ ’گوٹہارڈ بیس ٹنل‘ کو اور بہتر انداز میں اور مکمل طور پر استعمال میں لایا جا سکے۔ میرکل کے بقول، ’’ہمیں علم ہے کہ ہم پیچھے رہ گئے ہیں۔‘‘

بتایا گیا ہے کہ 57 کلومیٹر طویل اس ٹنل پر 12.3 ارب ڈالر کی لاگت آئی ہے۔ اس کی تعمیر میں کل سترہ برس لگے ہیں۔ اس سے قبل دنیا کی طویل ترین سرنگ ہونے کا اعزاز جاپان کی ’سائیکان ٹنل‘ کے پاس تھا، جو 53.9 کلومیٹر طویل ہے۔ یہ ٹنل ہونشو اور ہوکائیڈو جزائر کو ٹرین کے ذریعے ایک دوسرے سے ملاتی ہے۔ اس سرنگ کے نتیجے میں سوئس شہر زیورخ اور اطالوی شہر میلان کے درمیان سفر کے دورانیے میں ایک گھنٹے کی کمی ہو جائے گی۔ اس سرنگ کا خیال سب سے پہلے سوئٹزرلینڈ کے ایک انجینئر کارل ایڈوآرڈ گرُونر نے تقریباً ستّر سال پہلے 1947ء میں پیش کیا تھا۔

گوٹہارڈ بیس ٹنل کو تحفظ ماحول کے مقصد کے تحت بھی تعمیر کیا گیا ہے جبکہ اس کا ایک مقصد جرمنی، اٹلی اور سوئٹزرلینڈ کے بڑے صنعتی شہروں کو ایک دوسرے سے جوڑنا ہے۔ اس تناظر میں جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے ایک سوئس نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا ،’’یہ شمال کو جنوب سے ملانے کے حوالے سے ایک خوبصورت دن ہے۔‘‘ چانسلر میرکل اپنے فرانسیسی اور اطالوی ہم منصبوں کے ساتھ اس ٹنل سے بھی گزریں۔

ماہرین کے مطابق اس سوئس ٹنل کی وجہ سے مال بردار ٹرینوں کے ذریعے سامان کی ترسیل 2030ء تک دوگنی ہو سکتی ہے۔ آج کل اس راستے سے تقریباً ایک ارب ٹن مال ان ممالک کے مابین منتقل کیا جاتا ہے۔ سوئس حکام کے مطابق عام ریل گاڑیوں کے لیے یہ سرنگ گیارہ دسمبر کو کھول دی جائے گی جبکہ افتتاحی تقریبات کئی روز تک جاری رہیں گی۔

ملتے جلتے مندرجات

اشتہار