سن 2018 ميں مہاجرين کی کشتی ڈوبنے کا پہلا واقعہ | مہاجرین کا بحران | DW | 06.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

سن 2018 ميں مہاجرين کی کشتی ڈوبنے کا پہلا واقعہ

ليبيا کے قريب سمندر ميں کشتی ڈوبنے کے ايک واقعے ميں کم از کم پچيس تارکين وطن کی ہلاکت کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ اطالوی کوسٹ گارڈ کا کہنا ہے کہ ڈوبنے والوں میں سے پچاسی افراد کو بچا لیا گیا ہے۔

جرمن امدادی تنظيم ’سی واچ‘ نے ہفتے کے روز ٹوئٹر پر جاری کردہ ايک پيغام ميں لکھا ہے، ’’ليبيا کے دارالحکومت طرابلس کے شمال ميں ربڑ کی ايک کشتی ڈوبنے کے واقعے ميں کم از کم پچيس افراد ہلاک ہو گئے ہيں۔ مرنے والوں کی حتمی تعداد فی الحال واضح نہيں۔ اطالوی بحريہ جائے وقوعہ پر موجود ہے۔‘‘ اطالوی کوسٹ گارڈز نے خبر رساں ادارے اے ايف پی کو مطلع کيا ہے کہ پچاسی مہاجرين کو ڈوبنے سے بچا ليا گيا جبکہ اب تک ڈوبنے والے آٹھ تارکين وطن کی لاشيں بھی نکالی جا چکی ہيں۔ دو مختلف امدادی تنظيموں کے مطابق اس کشتی پر تقريباً ڈيڑھ سو تارکين وطن سوار تھے۔

کہا جا رہا ہے کہ امکاناً يہ سن 2018 ميں مہاجرين کی کشتی ڈوبنے کا پہلا بڑا واقعہ ہے۔ تاہم امدادی اداروں کے مطابق يورپ کے سفر پر گامزن کئی چھوٹی کشتياں بحيرہ روم ميں غرق ہو جاتی ہيں اور ان کے بارے ميں کچھ پتا نہيں چلتا۔

ہفتے کے روز ڈوبنے والی اس کشتی کے بارے ميں اطلاع يورپی يونين کے اينٹی ٹريفکنگ مشن صوفيہ کے نگرانی پر مامور ايک فضائی جہاز نے دی۔ بتايا گيا ہے کہ کوسٹ گارڈز اور بحريہ کی کشتياں اس وقت بھی ريسکيو کارروائيوں ميں مصروف ہيں۔

سال نو کے پہلے چھ دنوں ميں تقريباً چار سو شمالی افريقی تارکين وطن کو ريسکيو کر کے اٹلی پہنچايا جا چکا ہے جبکہ پچھلے سال اسی عرصے ميں يہ تعداد 729 تھی۔ سن 2017 ميں يورپ تک پہنچنے کی کوششوں کے دوران کم از کم 3,116 مہاجرين بحيرہ روم ميں ڈوب کر ہلاک ہوئے۔

DW.COM