سنکیانگ: شرح پیدائش تاریخ کی کم ترین سطح پر | حالات حاضرہ | DW | 16.05.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

سنکیانگ: شرح پیدائش تاریخ کی کم ترین سطح پر

چین کے ایسے اضلاع میں جہاں بڑی اقلیتیں آباد ہیں، وہاں 2018 ء تا 2019 ء شرح پیدائش 43.7 فیصد کی حد تک گر گئی، یعنی وہاں اس عرصے میں بچوں کی پیدائش میں کمی ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے بھی زیادہ رہی۔

آسٹریلیا کے ایک تھنک ٹینک کے جائزے کے مطابق چین کے مغرب بعید میں واقع صوبے سنکیانگ میں 2017 ء تا 2019 ء بچوں کی پیدائش کی شرح حالیہ تاریخ کی  نچلی ترین سطح پر رہی۔

آسٹریلیا کے اسٹریٹیجک  پالیسی انسٹیٹیوٹ 'اے ایس پی آئی‘ سے موصولہ رپورٹ ایسو سی ایٹڈ پریس کے ذریعے منظر عام پر آئی۔ اس سے ظاہر ہوا ہے کہ سنکیانگ میں شرح پیدائش میں 48.74 فیصد کی کمی خاص طور سے ان علاقوں میں ہوئی، جہاں ایغور نسل اور قازقستان سے تعلق رکھنے والے باشندے  اور دیگر بڑی مسلم نسلی اقلیتیں آباد ہیں۔ یہ شرح چینی حکومت کی طرف سے قریب ایک دہائی پر محیط اعداد و شمار کے عین مطابق ہے۔

چین کا ’ون چائلڈ پالیسی‘ کے خاتمے کا اعلان

      

China Uiguren Xinjiang Kinder Geburtenrate

چین میں ایغور مسلم اقلیت کو ہر شعبے میں امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔

2017 ء تا 2018 ء

چین کے ایسے اضلاع میں جہاں بڑی اقلیتیں آباد ہیں، وہاں 2018 ء تا 2019 ء شرح پیدائش 43.7 فیصد کی حد تک گر گئی، یعنی وہاں اس عرصے میں بچوں کی پیدائش میں کمی ایک لاکھ ساٹھ ہزار سے بھی زیادہ رہی۔ اس کے مقابلے میں چین کے ایسے علاقوں میں بچوں کی پیدائش کی شرح نسبتاً زیادہ رہی، جہاں ہان نسل کے چینی باشندے آباد ہیں۔ اقوام متحدہ کی طرف سے عالمی شرح پیدائش کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کا سلسلہ 71 سال پہلے شروع ہوا تھا، تب سے اب تک یعنی ان اکہتر سالوں میں پہلی بار بچوں کی شرح پیدائش میں اتنی غیر معمولی کمی نوٹ کی گئی ہے۔ اے ایس پی آئی کے ایک محقق اور اس تجزیاتی رپورٹ کے ایک شریک مصنف نیتھن روسر کے مطابق اس کمی نے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں، یہاں تک کہ شام کی خانہ جنگی اور روانڈا اور کمبوڈیا میں نسل کشی کے دور میں بھی بچوں کی شرح پیدائش میں اتنی شدید کمی کبھی دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔ نیتھن روسر کے بقول، ''اس سے آپ کو چین میں خاندانی منصوبہ بندی کی پالیسیوں اور اس کے خلاف کریک ڈاؤن کی وسعت اور حکام کے معاشرتی امور پر کنٹرول کے پیمانے کا اندازہ ہوتا ہے اور حکام ہمیشہ اس کی تلاش میں رہتے ہیں۔‘‘’کرائے کی ماؤں‘ کے پاس پھنسے ہزاروں چینی بچے

China I Familienpolitik

چین کی خاندانی منصوبہ بندی کی پالیسی کو ماہر عمرانیات تنقید کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

رپورٹ کی تصدیق

آسٹریلیا کے اسٹریٹیجک  پالیسی انسٹیٹیوٹ کی اس رپورٹ سے اے پی کے ایک مراسلے اور ایک جرمن ریسرچر آڈریان سنس کی گزشتہ سال کی ایک رپورٹ کی تصدیق بھی ہوتی ہے۔ اس جرمن محقق کی رپورٹ کے مطابق چینی حکام کی طرف سے ایغور نسل کے مسلمانوں کے ہاں بچوں کی پیدائش پر سخت کنٹرول کے لیے نس بندی، اسقاط حمل اور خواتین میں آئی یو وی آلات کے استعمال جیسے حربے بروئے کار لائے گئے۔ اس کے علاوہ  تین یا اس سے زیادہ بچوں والے والدین کو جرمانے کرنے اور انہیں حراست میں لینے جیسے اقدامات بھی کیے جاتے رہے ہیں۔ایغور مسلمانوں کو خنزیر کھانے پر مجبور کیا جاتا ہے، الجزیرہ رپورٹ

 

China Rudong Demografie Bevölkerung Senioren Ein-Kind-Politik

چین کی ’ون چائلڈ‘ پالیسی کی وجہ سے اس ملک میں معمر افراد کی تعداد بہت زیادہ ہوگئی ہے۔

چین کی متعلقہ وزارت اور سنکیانگ حکومت نے اس رپورٹ پر تبصرہ کرنے کی درخواست وصول ہونے کے باوجود فوری طور پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا۔ تاہم آسٹریلیا کے اسٹریٹیجک پالیسی انسٹیٹیوٹ اور جرمن ریسرچر آڈریان سنس دونوں بیجینگ حکومت کی زد میں آ چکے ہیں۔ انہیں بدنام کرنے کے لیے اس طرح کے الزامات عائد کیے گئے کہ امریکا اور دیگر مغربی ممالک کی حکومتیں ان کی مالی اعانت کرتی ہیں۔ اس کے برعکس خبر رساں ادارے اے پی نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ ان دونوں کے بتائے گئے بہت سے اعداد و شمار چینی حکومت کے اپنے ڈیٹا پر مبنی ہیں۔

 

ک م / م م (اے پی)