1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

سلامتی کونسل: شامی کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق قرارداد منظور

شامل شمس28 ستمبر 2013

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے کا مسودہء قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے۔

https://p.dw.com/p/19pmK
REUTERS/Brendan McDermid
تصویر: Reuters

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تمام پندرہ اراکین نے قرارداد کے مسودے کو منظور کیا۔

Harold Cunningham/Getty Images)
اس قرارداد کے مسودے کی منظوری امریکا اور شام کے حلیف ملک روس کے درمیان اختلافات کے باعث التوا کا شکار رہیتصویر: Getty Images

گزشتہ روز اقوام متحدہ کے پانچ مستقل اراکین، امریکا، برطانیہ، فرانس، روس اور چین اس قرارداد کے مسودے پر متفق ہوئے تھے۔ اس قرارداد کے مسودے کی حتمی منظوری امریکا اور شام کے حلیف ملک روس کے درمیان اختلافات کے باعث التوا کا شکار رہی۔

قبل ازیں کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت سے متعلق تنظیم ’او پی سی ڈبلیو‘ نے شام کے کیمیائی ہتھیاروں کو اگلے برس تک تلف کرنے کے ایک منصوبے کی منظوری دی تھی۔ یہ منظوری اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی منظوری کے لیے ضروری قرار دی جا رہی تھی۔

روسی وزیر خارجہ سیرگئی لاوروف اور ان کے امریکی ہم منصب جان کیری کے علاوہ برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ بھی سلامتی کونسل میں قرارداد پر ووٹنگ کے دوران موجود تھے۔ ان رہنماؤں نے قرارداد کی منظوری کو سفارت کاری کی ایک شان دار کامیابی قرار دیا ہے۔

ولیم ہیگ کا اس بارے میں کہنا تھا: ’’ہم نے یک ذبان ہو کر کہہ دیا ہے کہ کیمیائی ہتھیار برداشت نہیں کیے جائیں گے۔‘‘

لاوروف نے او پی سی ڈبلیو پر زور دیا کہ وہ اب اپنی ذمہ داری کو پروفیشنل اور غیر جانب دار طریقے سے انجام دے۔ ان کا مزید کہنا تھا، ’’شامی حکوت نے کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کے حوالے سے اپنے تعاون کا ثبوت ہتیھاروں کی تمام تر تفصیلات اقوام متحدہ کے سامنے پیش کر کے دے دیا ہے۔‘‘

کئی ہفتوں سے سلامتی کونسل کے مستقل اراکین کے درمیان اسد حکومت کے خلاف سلامتی کونسل کی قرارداد پر اختلاف پایا جا رہا تھا۔ شام میں ڈھائی سال سے جاری بحران کے نتیجے میں ڈیڑھ لاکھ کے قریب افراد ہلاک اور تقریباً بیس لاکھ بے گھر ہو چکے ہیں۔ تاہم اکیس اگست کو شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال اور اس کے نتیجے میں ہونے والی سینکڑوں ہلاکتوں کے بعد یہ تنازعہ ایک خطرناک رخ اختیار کر گیا تھا۔ اقوام متحدہ کے معائنہ کار کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تصدیق کر چکے ہیں تاہم انہوں نے یہ نہیں کہا کہ یہ ہتھیار شامی حکومت نے استعمال کیے تھے یا پھر اسد حکومت کے خلاف برسر پیکار باغیوں نے۔ امریکا، برطانیہ اور فرانس کا مؤقف ہے کہ یہ ہتھیار شامی حکومت کی جانب سے استعمال کیے گئے تھے۔ اکیس اگست کے واقعے کے بعد امریکی صدر اوباما نے شام کے خلاف طاقت استعمال کرنے کا اشارہ دے دیا تھا۔

قبل ازیں جمعے کے روز خبر رساں ادارے اے ایف پی نے اقوام متحدہ کے ماہرین کے حوالے سے بتایا تھا کہ وہ شام میں اکیس اگست کے کیمیائی حملے کے بعد وہاں مبینہ طور پر ہوئے مزید سات ایسے ہی حملوں کی تحقیقات کریں گے۔ بتایا گیا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق اقوام متحدہ کی خصوصی ٹیم اس وقت شام میں موجود ہے اور وہ اگلے منگل تک اپنی نئی تحقیقات مکمل کر لے گی۔