سقوط ڈھاکہ کو کیسے یاد کیا جارہا ہے ؟ | حالات حاضرہ | DW | 16.12.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

سقوط ڈھاکہ کو کیسے یاد کیا جارہا ہے ؟

سولہ دسمبر 1971ء کو ڈھاکہ میں پاکستانی فوج کے مشرقی بازو کے کمانڈر جنرل نیازی نے بھارتی فوج کے کمانڈر کے سامنے ہتھیار ڈالے اور پاکستان کے دو حصے ہوگئے۔

پاکستان نے بھارت پر بنگلہ دیش کی علیحدگی کی حمایت کرنے کا الزام عائد کیا اور بنگلہ دیش کا کہنا ہے کہ نو ماہ تک جاری رہنے والی بنگلہ دیش کی جنگ آزادی کے دوران اس وقت کے مشرقی پاکستان میں مغربی پاکستانی فوجیوں نے بنگلہ دیشی عوام پر جو ظلم و ستم ڈھائے تھے، اس کے لیے سرکاری طور پر معذرت کی جائے۔

ڈھاکہ حکومت الزام عائد کرتی ہے کہ ان نو مہینوں کے دوران پاکستانی فوجیوں نےمقامی حامیوں کے ساتھ مل کر قریب تین ملین افراد کو ہلاک کیا، دو لاکھ خواتین کی آبروریزی کی جبکہ لاکھوں افراد کو بے گھر کر دیا۔ اسلام آباد حکومت بنگلہ دیشی حکومت کی طرف سے پیش کردہ ان اعدادوشمار پر اختلاف رکھتی ہے۔

آج 48 سال بعد پاکستان کے دو  ٹُکڑے ہو جانے کے واقعہ کو مختلف انداز میں یاد کیا جارہا ہے۔ پاکستان کے ریٹائرڈ فوجی افسر ایئر مارشل شاہد لطیف نے ٹوئٹر پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا،'' سولہ دسمبر 1971ء کو ہمیشہ ایک سیاہ دن کے طور پر یاد کیا جائے گا جب کچھ افراد کے سیاسی مفادات کی وجہ سے عوامی رائے کو نظر انداز کیا گیا تھا۔‘‘

ٹوئٹر پر ایک صارف نے لکھا،'' پاکستان کو صرف فوجی ناکامی نہیں بلکہ سفارتی، سیاسی اور مواصلاتی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔‘‘

سوشل میڈیا پر جنرل نیازی کی وہ تصویر بھی شیئر کی جارہی ہے جس میں بظاہر پاکستانی فوج نے 1971ء کی جنگ میں شکست قبول کر لی تھی۔

ڈھاکہ کے کيفے پر حملے ميں ملوث سات مجرمان کے ليے سزائے موت

کئی اخبارات میں مختلف تجزیہ کاروں نے اس تاریخی واقعہ پر اپنی رائے کا بھی اظہار کیا ہے۔

پاکستانی سینئر صحافی محمد ضیاءالدین نے آن لائن ویب سائٹ 'نیا دور‘ کو دیے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ،'' پاکستان کو بنگلہ دیش کے ساتھ غلط رویہ اپنانے پر معافی مانگ لینا چاہیے۔ معافی نہ مانگنے کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات میں غیر ضروری طور پر ہمارے تعلقات متاثر ہو رہے ہیں‘‘۔

اسی طرح نوائے وقت میں ڈاکٹر احمد سلیم نے لکھا،''اس بات سے کوئی انکار نہیں کہ سقوط ڈھاکہ میں بھارت کا بڑا کردار تھا اور بھارتی قیادت کو آج بھی پاکستان کا وجود گوارا نہیں ہے لیکن بھارت کے خلاف واویلا کرنے سے زیادہ اہم ہے کہ ہم حمود الرحمٰن کمیشن کی رپوٹ سامنے لانے کا مطالبہ بھی کریں اور ساتھ ہی 1948ء سے 1971ء کے درمیان ہونے والی اپنی سیاسی اور فوجی غلطیوں کا سنجیدہ اور تفصیلی مطالعہ کریں اور ان سے سبق حاصل کریں۔‘‘

بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حکومت نے ان بنگالیوں کے خلاف ایک خصوصی عدالتی ٹریبیونل قائم کیا تھا، جو1971ء کی جنگ کے دوران مغربی پاکستانی فوجیوں کی مدد کرنے کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اب تک کئی ایسے کئی افراد کو پھانسی کی سزائین دی جا چکی ہیں۔

ب ج، ک م