سعودی کراؤن پرنس نے ایرانی سپریم لیڈر کو ’ہٹلر‘ قرار دے دیا | حالات حاضرہ | DW | 24.11.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سعودی کراؤن پرنس نے ایرانی سپریم لیڈر کو ’ہٹلر‘ قرار دے دیا

سعودی کراؤن پرنس نے ایرانی سپریم لیڈر کو ’مشرق وسطیٰ کا نیا ہٹلر‘ قرار دے دیا ہے۔ حالیہ عرصے میں سعودی عرب اور ایران کے تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں جبکہ محمد بن سلمان کا یہ نیا بیان جلتی پر تیل کا کام کر سکتا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ایک تازہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اور سعودی عرب کے باہمی تعلقات میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ سعودی ولی عہد اور وزیر دفاع محمد بن سلمان نے امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کو دیے گئے اپنے ایک تازہ انٹرویو میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ’مشرق وسطیٰ کا ہٹلر‘ قرار دے دیا ہے۔

سعودی عرب جدید امریکی اسلحہ خریدنے پر تیار

عرب لیگ کے اجلاس میں ایران مخالف جذبات کا اظہار

سعودی عرب احتیاط سے کام لے، امریکی اشارہ

ویڈیو دیکھیے 02:37
Now live
02:37 منٹ

قطر کا بحران: کون کس کے ساتھ ہے؟

نیویارک ٹائمز میں جمعرات کو شائع ہونے والے اس انٹرویو میں محمد بن سلمان نے کہا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی سربراہی میں ایران خطے میں اپنا اثرروسوخ بڑھانے کی کوشش میں ہے اور اسے روکنے کی کوشش کی جانا چاہیے۔

محمد بن سلمان نے مزید کہا کہ انہوں نے یورپ سے سیکھا ہے کہ جارح شخص کے مطالبات کو تسلیم کرتے جانا مناسب نہیں ہے۔ اسی تناظر میں انہوں نے کہا کہ وہ ایران میں ایک ’نیا ہٹلر‘ نہیں چاہتے جو مشرق وسطیٰ میں تباہی پھیلا دے۔

محمد بن سلمان کا یہ نیا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب سعودی عرب اور ایران کے مابین تناؤ کی کیفیت میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کی ایک وجہ لبنانی وزیر اعظم سعد الحریری کا وہ بیان بھی بنا، جس میں انہوں نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران نواز شیعہ ملیشیا حزب اللہ لبنان میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کی کوشش میں ہے۔

انہوں نے اپنی جان کو لاحق مبینہ خطرات کے تناظر میں وزارت عظمیٰ سے الگ ہونے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم اب انہوں نے اس فیصلے کو معطل کر دیا ہے۔ تاہم حزب اللہ نے اس پیشرفت کو سعودی ’سازش‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔

دوسری طرف یمن میں جاری خانہ جنگی بھی ان دونوں ممالک کے مابین اختلاف کی ایک اہم وجہ قرار دی جاتی ہے۔ مارچ سن دو ہزار پندرہ میں سعودی عسکری اتحاد نے یمن میں فعال ایران نواز حوثی باغیوں کے خلاف کارروائی شروع کی تھی۔

اس ڈھائی برس کے عرصے میں یہ فوجی اتحاد یمن میں ہزاروں فضائی حملے کر چکا ہے۔ محمد بن سلمان نے اس جنگ کے حوالے سے کہا ہے کہ سعودی عسکری اتحاد کی پوزیشن مضبوط ہے اور وہ یمن کا پچاسی فیصد علاقہ بازیاب کرا چکا ہے۔

DW.COM

Audios and videos on the topic