سعودی ولی عہد کی پاکستان آمد ميں تاخير، وجہ کيا ہو سکتی ہے؟ | حالات حاضرہ | DW | 16.02.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

سعودی ولی عہد کی پاکستان آمد ميں تاخير، وجہ کيا ہو سکتی ہے؟

پاکستانی اہلکاروں نے بتايا ہے کہ سعودی ولی عہد کی پاکستان آمد ميں ايک دن کی تاخير آ گئی ہے اور اب وہ اتوار کو دارالحکومت اسلام آباد پہنچ رہے ہيں۔ اس تازہ پيش رفت نے پاکستان ميں بہت سے لوگوں کو سوچ ميں ڈال ديا ہے۔

شہزادہ محمد بن سلمان کا دورہ پاکستان آخری وقت پر ملتوی ہو گيا ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق اس ميں صرف ايک دن کی تاخير آئی ہے اور اب وہ اتوار کو اسلام آباد پہنچ رہے ہيں۔ اس بارے ميں پاکستان کی وزارت خارجہ کی جانب سے ہفتے کو جاری کردہ بيان ميں اس تاخير کی کوئی وجہ بيان نہيں کی گئی ہے البتہ مطلع کيا گيا ہے کہ محمد بن سلمان کے دو روزچ دورے کا شيڈول وہی رہے گا۔ سعودی عرب کے ولی عہد کو ہفتہ سولہ فروری کی شام اسلام آباد پہنچنا تھا۔

پاکستان کو اميد ہے کہ محمد بن سلمان کے اس دورے کے دوران آئندہ دو برسوں کے درميان تقريباً سات بلين ڈالر کی سرمايہ کاری کے کئی منصوبوں کو حتمی شکل دی جائے گی۔ يہاں يہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ شہزادہ محمد بن سلمان کو پاکستان کے بعد بھارت جانا ہے اور بھارتی زير انتظام کشمير ميں اکتاليس افراد کی ہلاکت کا سبب بننے والے دو دن قبل ہوئے حملے کے تناظر ميں پاکستان اور بھارت کے مابين شديد کشيدگی پائی جاتی ہے۔ رياض حکومت نے بھی اس حملے کی مذمت کی ہے۔ بھارتی وزير اعظم نريندر مودی نے حملے کا الزام پاکستان پر عائد کيا ہے جبکہ پاکستان نے اس کی ترديد کی ہے۔

ہفتے کو جاری کردہ بيان ميں پاکستانی حکام نے يہ بھی بتايا کہ سعودی اور پاکستانی کاروباری شخصيات کی ايک کانفرنس ’ناگزير وجوہات‘ کی بناء پر ملتوی ہو گئی ہے۔ يہ عنديہ بھی ديا گيا ہے کہ محمد بن سلمان کے وفد ميں اب کم کاروباری شخصيات شامل ہوں گی۔ دوسری جانب دفتر خارجہ کے بيان ميں يہ بھی بتايا گيا ہے کہ شہزادہ سلمان کے ہمراہ شاہی خاندان کے چند افراد اور وزراء بھی پاکستان آئيں گے۔

ع س / ع ب، نيوز ايجنسياں