سعودی ولی عہد کا ایران کے تئیں مصالحانہ لہجہ | حالات حاضرہ | DW | 28.04.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

سعودی ولی عہد کا ایران کے تئیں مصالحانہ لہجہ

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے دونوں دیرینہ حریف پڑوسی ملکوں کے درمیان بغداد میں خفیہ مذاکرات کے بعد ایران کے ساتھ 'اچھے تعلقات‘ کی خواہش ظاہر کی ہے۔

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے دیرینہ حریف ملک ایران کے تئیں منگل کے روز مصالحانہ لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے اس ہمسایہ ملک کے ساتھ 'اچھے‘ تعلقات کے خواہش مند ہیں۔

دونوں ممالک علاقائی برتری حاصل کرنے کے لیے ایک عرصے سے بالواسطہ طور پر باہم متحارب ہیں۔ سن 2016 میں ایک معروف شیعہ عالم دین کو سعودی حکومت کی طرف سے سزائے موت دیے جانے کے بعد ایرانی مظاہرین کے سعودی سفارتی مشنوں پر ہونے والے حملے کے بعد سعودی عرب نے ایران کے ساتھ تعلقات منقطع کرلیے تھے۔

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے منگل کو دیر رات نشر ایک ٹیلی ویزن انٹرویو میں کہا”ایران ایک پڑوسی ملک ہے اور ہم سب ایران کے ساتھ ایک اچھے اور خصوصی تعلقات کے خواہش مند ہیں۔"

سعودی ولی عہد کا مزید کہنا تھا”ہم نہیں چاہتے کہ ایران کے حالات مزید پریشان کن ہوں۔ اس کے برخلاف ہم چاہتے ہیں ایران ترقی کرے اور خطے اور دنیا کو خوشحالی کی جانب لے جانے میں تعاون کرے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ ریاض، تہران کے ”منفی رویے" کا حل تلاش کرنے کے لیے اپنے علاقائی اور عالمی شرکائے کار کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔

لہجے میں تبدیلی

ایران کے حوالے سے شہزادہ محمد بن سلمان کے لہجے میں یہ تبدیلی ان کے سابقہ انٹرویوز سے یکسر مختلف ہے، جس میں وہ تہران کو علاقائی عدم استحکام کو ہوا دینے کے لیے مورد الزام ٹھہراتے رہے ہیں۔

سعودی ولی عہد نے تہران کے ساتھ کسی بات چیت کا تاہم ذکر نہیں کیا۔

عراقی وزیر اعظم مصطفی الخادمی کے تعاون سے ریاض اور تہران کے درمیان بغداد میں ہونے والی بات چیت کا انکشاف فائنانشیل ٹائمز کی ایک رپورٹ سے ہوا جس میں بتایا گیا تھا کہ دونوں کے درمیان 9 اپریل کو پہلی میٹنگ ہوئی تھی۔

عراقی حکومت کے ایک عہدیدار نے بھی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے ان مذاکرات کی تصدیق کی تھی جبکہ ایک مغربی سفارت کا کہنا تھا کہ انہیں ”تعلقات کو بہتر بنانے اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ثالثی"  کے بارے میں ”پیشگی اطلاع“دی گئی تھی۔

ریاض نے سرکاری طورپر اس طرح کی کسی بات چیت کی تردید کی ہے تاہم ایران نے اس پر اب تک کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے اور ایک مختصر بیان میں کہا کہ تہران سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا ”ہمیشہ خیر مقدم" کرتا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت ہوئی ہے جب خطے میں کئی تبدیلیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ امریکی صدر جو بائیڈن سن 2015 کے ایران جوہری معاہدے کو بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جسے ان کے پیش رو ڈونلڈ ٹرمپ نے یک طرفہ طور پر ختم کر دیا تھا۔

یمنی بھی تو عرب ہیں

سعودی عرب اور ایران، شام سے لے کر یمن تک متعدد علاقائی تصادم میں ایک دوسرے کے حریف گروپوں کی حمایت کر رہے ہیں۔

ایران، یمن میں حوثی باغیوں کی حمایت کر رہا ہے جو سن 2015 سے سعودی عرب کی قیادت والی اتحادی فوج کے خلاف جنگ کر رہے  ہیں۔ حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے اہداف بشمول تیل کی تنصیبات پر ڈرون اور میزائل حملے بھی تیز کر دیے ہیں۔

سعودی ولی عہد نے اپنے انٹرویو میں حوثی باغیوں سے جنگ بندی اور مذاکرات کی اپیل کی۔

شہزادہ محمد بن سلمان کا کہنا تھا''اس میں کوئی شک نہیں کہ حوثیوں کے ایرانی نظام سے قریبی تعلقات قائم ہیں لیکن اس حقیقت میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ وہ عرب ہیں اور بالآخر انہیں تنازع کے خاتمے کے لیے اپنے عرب بھائیوں کے ساتھ ہی مل بیٹھنا ہوگا۔"

سعودی ولی عہد نے یمن میں جاری بحران کے سیاسی حل سے متعلق اپنے منصوبہ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب مذاکرات کی میز پر ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کی موجودگی کو مسترد نہیں کرے گا۔

ج ا/ ص ز(اے ایف پی)

ویڈیو دیکھیے 01:17

ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کون تھے؟

DW.COM