سعودی عرب کی یمن میں جنگ بندی پیشکش، حوثی باغیوں کا انکار | حالات حاضرہ | DW | 22.03.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

سعودی عرب کی یمن میں جنگ بندی پیشکش، حوثی باغیوں کا انکار

سعودی عرب نے برسوں سے خانہ جنگی کے شکار عرب ملک یمن میں حوثی باغیوں کو ملک گیر جنگ بندی کی پیش کش کر دی ہے۔ سعودی وزیر خارجہ کے مطابق اس سیز فائر پر عمل درآمد کی نگرانی اقوام متحدہ کو کرنا چاہیے۔

سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان السعود نے آج پیر کے روز کہا کہ ان کے ملک نے عرب دنیا کی غریب ترین ریاست اور کئی برسوں کی ہلاکت خیز خانہ جنگی سے تباہ حال یمن کے لیے ایک نئی امن پیش رفت شروع کی ہے، جس کا مقصد وہاں جنگ کا خاتمہ ہے۔

ہوائی اڈہ اور بندرگاہ کھولنے کی پیش کش

اس پیش رفت کے تحت ایران نواز حوثی شیعہ باغیوں کو پورے یمن میں ایسی جنگ بندی کی پیش کش کی گئی ہے، جس کی نگرانی اقوام متحدہ کو کرنا ہو گی۔ مزید یہ کہ حوثی باغیوں کو صنعاء کے ہوائی اڈے کو دوبارہ کھولنے اور حدیدہ کی بندرگاہ کے راستے ایندھن اور اشیائے خوراک کی درآمد کی اجازت ہو گی۔ صنعاء کا ایئر پورٹ اور حدیدہ کی بندرگاہ دونوں باغیوں کے کنٹرول میں ہیں۔

مارب کا دفاع کمزور ہو چکا ہے، یمنی حکومتی اہلکار

پرنس فیصل بن فرحان السعود نے کہا کہ اسی پیش رفت کے تحت ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کو سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت کے ساتھ اپنے امن مذاکرات بھی بحال کرنا ہوں گے۔ سعودی وزیر خارجہ نے کہا، ''یہ نئی امن پیش رفت حوثی باغیوں کے اس پر اتفاق کر لینے کے ساتھ ہی مؤثر ہو جائے گی۔‘‘

یمن: مہاجرین حراستی مرکز میں آگ لگنے سے متعدد افراد ہلاک

Jemen Darwan Flüchtlingslager

یمن میں خانہ جنگی کی وجہ سے چار ملین سے زائد شہری بے گھر ہو چکے ہیں

حوثیوں کا جدہ میں ارامکو تیل تنصیب پر میزائل حملہ

'سعودی پیش کش میں کچھ بھی نیا نہیں‘

یمن کی چھ سالہ خانہ جنگی میں ریاض حکومت کی حمایت یافتہ ملکی حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد کرنے والے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کی اس پیش کش پر اپنے فوری رد عمل میں کہا کہ نئی سعودی امن پیش کش میں تو کچھ بھی نیا نہیں ہے۔

اس موقف کے باوجود حوثی باغیوں کے اعلیٰ ترین مذاکرات کار محمد عبدالسلام نے تاہم کہا کہ حوثی ریاض حکومت، مسقط اور واشنگٹن کے ساتھ اپنی بات چیت اس لیے جاری رکھیں گے کہ خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے کسی نا کسی امن معاہدے تک پہنچنے کی راہ کھلی رہے۔

حوثی باغیوں کا سعودی عرب کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملہ

محمد عبدالسلام نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا، ''ہوائی اڈوں کو کھولنا اور بندرگاہوں کے دوبارہ استعمال کی اجازت یمنی عوام کی انسانی بنیادوں پر مدد کے عمل میں ان کا حق ہے، جسے دباؤ کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔‘‘

یمن میں جنگ بندی، ایران کی طرف سے نئی کوششوں کا خیرمقدم

باغی کیا چاہتے ہیں؟

یمن کے حوثی باغیوں کا، جن کے خلاف سعودی عرب نے اپنی قیادت میں کئی برسوں سے ایک بین الاقوامی عسکری اتحاد بھی قائم کر رکھا ہے، کہنا ہے کہ یمن کی وہ فضائی اور سمندری ناکہ بندی ختم کی جانا چاہیے، جو ملک میں بدترین انسانی بحران کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔

باغیوں کے مطابق اس ناکہ بندی کا خاتمہ ہی وہ اہم ترین پیشگی شرط ہے، جسے تسلیم کرنے کے بعد ہی جنگی فریقین کے لیے کسی امن معاہدے تک پہنچنا ممکن ہو سکتا ہے۔

سعودی قیادت میں عسکری اتحاد کا کہنا ہے کہ یمنی ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں کی ناکہ بندی کا مقصد حوثی باغیوں کے لیے بیرون ملک سے ہتھیاروں کی ترسیل کو روکنا ہے۔

امریکا حوثی ملیشیا کو دہشت گرد بلیک لسٹ سے نکال دے گا

امریکا نے یمن پر سعودی حملوں کی حمایت روک دی

ایک لاکھ تیس ہزار ہلاکتیں

یمن کی چھ سالہ خانہ جنگی میں محتاط اندازوں کے مطابق بھی اب تک تقریباﹰ ایک لاکھ تیس ہزار انسان مارے جا چکے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد بھی لاکھوں میں بنتی ہے۔ اس کے علاوہ اس ملک کی 29 ملین کی مجموعی آبادی میں سے دو تہائی سے زائد شہری زندہ رہنے کے لیے امدادی سامان پر انحصار کرتے ہیں۔

یمن: نئی کابینہ کے ایر پورٹ پہنچتے ہی دھماکے، 26 افراد ہلاک

یمن میں اسی جنگ کے باعث کم از کم چار ملین شہری بے گھر بھی ہو چکے ہیں جبکہ صحت عامہ کا ملکی نظام بھی، جو پہلے بھی بہت ترقی یافتہ نہیں تھا، طویل جنگ کی وجہ سے اتنی بری طرح متاثر ہوا ہے کہ ملک میں نصف کے قریب ہسپتال اور صحت عامہ کے مراکز یا تو تباہ ہو چکے ہیں یا قابل استعمال نہیں رہے۔

م م / ع س (روئٹرز، اے ایف پی)