سعودی عرب کو مخصوص اسلحہ فروخت نہیں کیا جائے گا، امریکی اہلکار | حالات حاضرہ | DW | 14.12.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سعودی عرب کو مخصوص اسلحہ فروخت نہیں کیا جائے گا، امریکی اہلکار

یمن میں شہری ہلاکتوں کے باعث واشنگٹن سعودی عرب کو مخصوص فوجی سازوسامان کی فروخت روکنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ سعودی عسکری اتحاد یمن میں ایران نواز حوثی باغیوں کے خلاف جنگی کارروائی کر رہا ہے، جس میں شہری بھی مارے جا رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے پی نے ایک اعلیٰ امریکی اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ یمن میں سعودی عسکری اتحاد کے آپریشن میں شہری ہلاکتوں کے باعث امریکا ریاض حکومت کو کچھ مخصوص قسم کے اسلحے کی  فروخت روک رہا ہے۔ اس اہلکار نے اپنا نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا ہے کہ واشنگٹن سعودی عرب کی سرحدوں کے دفاع کے سلسلے میں ریاض حکومت کے ساتھ تعاون اور خفیہ معلومات کا تبادلہ بھی معطّل کر رہا ہے۔

یمن میں فائر بندی کی خاف ورزیاں ایک روز بعد ہی شروع
یمن کے متحارب فریقین تین روزہ جنگ بندی پر متفق

سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فراہمی جاری رہے گی

امریکی حکومت کی طرف سے یہ مبینہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے، جب اکتوبر میں یمن کے ایک ہسپتال پر سعودی عسکری اتحاد کے جنگی طیاروں کی بمباری کے نتیجے میں کم ازکم ایک سو چالیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ وائٹ ہاؤس نے اس واقعے کے بارے میں حقائق جاننے کے لیے تحقیقاتی عمل شروع بھی کر رکھا ہے۔

انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ سعودی عسکری اتحاد یمن میں شیعہ باغیوں کے خلاف جاری اپنی کارروائیوں میں شہری علاقوں، اسکولوں، ہسپتالوں اور گھروں کو بھی نشانہ بنا رہا ہے۔ انہی تنظیموں نے امریکی حکومت پر دباؤ ڈالا تھا کہ شہری ہلاکتوں کی وجہ سے سعودی عرب کو اسلحے کی فروخت روک دی جائے۔

اے پی نے بتایا ہے کہ کچھ فوجی عسکری سازوسامان کی فروخت کو منجمد کرنے کے علاوہ امریکی حکومت سعودی عرب کو ایسی خفیہ معلومات کے تبادلے سے بھی اجتناب کرے گی، جو شہری ہلاکتوں کا باعث بن سکتی ہیں۔ تاہم اس امریکی اہلکار نے اس منصوبے کے بارے میں زیادہ تفصیلات نہیں بتائی ہیں۔

ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ یمن میں بمباری کے لیے سعوی فضائیہ کی طرف سے اہداف کے انتخاب کے طریقے پر تحفظات کے باعث امریکا سعودی فضائیہ کے اہلکاروں کو تربیت فراہم کرنے کے حوالے سے بھی اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کر رہا ہے۔ اس امریکی اہلکار نے یہ بھی بتایا ہے کہ پینٹا گون اور دیگر امریکی ایجنسیاں سعودی عرب کے ساتھ تعاون کے طریقہ کار کو بدلنے پر بھی غور کر رہی ہیں۔

اس امریکی اہلکار نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ امریکی تعاون دراصل ایک ’بلینک چیک‘ نہیں کہ ریاض حکومت یمن میں اپنی  کارروائیوں کے دوران  اپنے اہداف کے انتخاب پر غور کرنا ہی چھوڑ دے۔ یمن کے تنازعے کے علاوہ ریاض حکومت کو امریکا کی طرف سے دی جانے والی عسکری امداد پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

مارچ سن دو ہزار پندرہ میں سعودی عرب اور علاقے میں اس کے دیگر حلیف ممالک نے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف جنگی کارروائی شروع کی تھی تاکہ وہاں فعال ایران نواز جنگجوؤں کو شکست دی جا سکے۔ اس تنازعے میں اب تک کم از کم نو ہزار افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

DW.COM