سعودی عرب پر حوثی باغیوں کا ڈرون اور میزائل حملہ | حالات حاضرہ | DW | 23.06.2020
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

سعودی عرب پر حوثی باغیوں کا ڈرون اور میزائل حملہ

تازہ کارروائی کا نشانہ سعودی دارالحکومت ریاض تھا۔ حکام کے مطابق سعودی فضائی افواج نے میزائل اور ڈرون مار گرائے اور یہ حملہ ناکام بنا دیا۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق یہ حملے پیر کی شب دیر گئے شروع ہوئے۔ منگل کو ایک بیان میں سعودی افواج کے ترجمان تُرکی المالکی نے کہا کہ فضایہ نے ریاض کی طرف داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل مار گرایا۔ انہوں نے کہا کہ حوثی باغیوں نے دو مزید بیلسٹک میزائل اور آٹھ بم بردار ڈرون بھی چلائے لیکن انہیں بھی تباہ کر دیا گیا۔           

اس سے قبل یمن میں برسرپیکار مسلح حوثی باغیوں نے ایک بیان میں سعودی عرب کے اندر ایک بڑے حملے کا دعویٰ کیا تھا۔ حوثیوں کے ایک عسکری ترجمان نے کہا کہ اس حملے میں ان کا نشانہ ریاض میں سعودی وزارت دفاع، شاہ سلمان ائیربیس اور  انٹیلیجنس کی ایک عمارت تھی۔

یمن کے حوثی باغیوں نے ماضی میں بھی بارہا سعودی عرب پر اس قسم کے حملے کیے ہیں، جس کے جواب میں سعودی افواج نے یمن میں ان کے ٹھکانوں پر زبردست فصائی حملے کیے۔ ان سعودی حملوں میں عورتوں اور بچوں سمتت یمن کے بے شمار عام شہری ہلاک ہوچکے ہیں، جس کے باعث سعودی حکومت پر شدید تنقید ہوتی رہی ہے۔

سعودی حکومت کا الزام ہے کہ حوثی باغیوں کو ایران کی پشت پناہی حاصل ہے۔ اس ماہ اقوام متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا کہ گزشتہ برس سعودی عرب پر یمن سے کیے گئے "چار فضائی حملوں میں استعمال ہونے والے کروز میزائل اور ڈرونز یا تو ایرانی ساختہ تھے، یا پھر ان کے پرزے ایران میں تیار کیے گئے تھے۔" 

ایران ان الزامات کی نفی کرتا ہے۔

حوثی ملیشیا نے ستمبر سن دو ہزار چودہ سے یمن کے دارالحکومت صنعا پر اپنا کنٹرول قائم کر رکھا ہے۔ یمن میں خانہ جنگی نے ملکی معيشت کو پہلے ہی تباہ کر رکھا ہے۔ اس انتہائی غریب عرب ملک ميں مہنگائی بہت زیادہ ہے جبکہ غربت اور بھوک کئی گنا بڑھ چکی ہے۔

         

ش ج، ک م (ڈی پی اے)