سعودی حکومت پر تنقید، شہزادہ ملازمت سے برطرف | حالات حاضرہ | DW | 10.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سعودی حکومت پر تنقید، شہزادہ ملازمت سے برطرف

اپنے ایک آڈیو پیغام میں سعودی حکومت کے اقدامات پر تنقید کرنے والے سعودی شہزادے کو اُن کے عہدے سے برطرف کر دیا گیا ہے۔ عبداللہ بن سعود نے سعودی شہزادوں کو گرفتار کرنے کے حکومتی فیصلے کو غیر منطقی قرار دیا تھا۔

König Salman Bin Abdul Aziz Al Saud und Kronprinz Mohammed Bin Salman Al Saud (picture-alliance/abaca/B. Press)

گزشتہ برس نومبر میں سعودی حکومت نے بدعنوانی کے خلاف ایک بڑی مہم شروع کرتے ہوئے شہزادوں سمیت درجنوں اہم شخصیات کو گرفتار کر لیا تھا

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق سعودی شہزادہ عبداللہ بن سعود بن محمد ملکی میری ٹائم اسپورٹس فیڈریشن کے سربراہ تھے۔ سعودی حکومت نے اب انہیں اس عہدے سے الگ کر کے ایک ملٹری افسر کو اُن کی جگہ تعینات کر دیا ہے۔

 انہوں نے چھ منٹ طویل ایک آڈیو پیغام میں سعودی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت نے گزشتہ ہفتے گرفتار ہوئے گیارہ سعودی شہزادوں کی گرفتاری کی جو وجوہات بیان کی ہیں وہ جھوٹ پر مبنی اور غیر منطقی ہیں۔ یہ آڈیو پیغام رواں ہفتے عربی میڈیا کی ویب سائٹوں پر جاری کیا گیا۔ نیوز ایجنسی اے پی کا تاہم کہنا ہے کہ وہ آزادانہ طور پر اس آڈیو ریکارڈنگ کی صحت کی تصدیق نہیں کرا سکی۔

نیوز ایجنسی بلوم برگ کا، جس  نے اس آڈیو کو پہلی بار رپورٹ کیا تھا،  کہنا ہے کہ سب سے پہلے یہ آڈیو پیغام اسمارٹ فون ایپلیکیشن واٹس ایپ پر پوسٹ کیا گیا۔ آڈیو پیغام میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گرفتار ہونے والے گیارہ شہزادوں میں ارب پتی  شہزادے اور سعودی عرب میں ڈیری مصنوعات بنانے والی سب سے بڑی کمپنی ’المراعی‘ کے چیئرمین کے صاحبزادے بھی شامل ہیں۔

عام طور پر سعودی شاہی خاندان کے افراد حکومت کے خلاف کوئی بیان نہیں دیتے۔ اس آڈیو پیغام کے منظر عام پر آنے سے خاندانِ سعود میں باہمی اختلافات اور تناؤ کی صورت حال کا پتہ چلتا ہے۔

اس آڈیو ریکارڈنگ میں شہزادہ عبداللہ بن سعود بن محمد نے مبینہ طور پر اپنا نام بتاتے ہوئے کہا ہے کہ گرفتار شدہ شہزادوں میں سے کسی ایک نے بھی شاہ سلمان کی نافرمانی نہیں کی۔

Königsfamilie Saudi-Arabien (AP)

سعودی میڈیا نے ہفتے کے روز ایسی خبریں شائع کی تھیں کہ گیارہ شہزادے تاریخی اہمیت کے حامل ’ قصر الحُکم‘ میں جمع ہو کر اپنے ایک رشتہ دار کو دی گئی سزائے موت کا معاوضہ طلب کر رہے تھے۔ علاوہ ازیں ان شہزادوں نے اُس حالیہ شاہی فرمان کی بھی مذمت کی جس کی رُو سے شاہی افراد کو پانی اور بجلی کے بلوں کی ادائیگی کی مد میں دی جانے والی رقوم میں کٹوتی کی گئی ہے۔

پرنس عبداللہ نے اپنی ریکارڈنگ میں کہا ہے کہ یہ شہزادے اپنے ایک رشتہ دار کے ہمراہ تھے جسے اُس کی سابقہ ملازمت کے بارے میں سوال جواب کے لیے بلایا گیا تھا۔ لیکن وہاں موجود سکیورٹی گارڈوں نے بد تمیزی کا مظاہرہ کیا جو کسی بھی سعودی شہری کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔

یاد رہے کہ اتوار کے روز سعودی اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ گرفتار شدہ شہزادوں کو اُن کے مطالبات کے حوالے سے اُن کی غلطی سے آگاہ کر دیا گیا تھا لیکن انہوں نے قصر الحکم چھوڑنے سے انکار کر دیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس نومبر میں سعودی حکومت نے بدعنوانی کے خلاف ایک بڑی مہم شروع کرتے ہوئے شہزادوں سمیت درجنوں اہم شخصیات کو گرفتار کر لیا تھا۔ 

 

DW.COM