سعد الحریری لبنان واپس چلے جائیں گے | حالات حاضرہ | DW | 18.11.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سعد الحریری لبنان واپس چلے جائیں گے

سعودی عرب میں ’قید ہونے‘ کی افواہوں کے بعد فرانس پہنچنے والے سعد الحریری دوبارہ اپنے ملک واپس چلے جائیں گے۔ دوسری جانب الحریری کے حوالے سے بیان دینے پر سعودی عرب نے اپنے سفیر کو جرمنی سے واپس بلا لیا ہے۔

لبنان کے صدر ميشال عون نے دعویٰ کیا ہے کہ آئندہ بدھ کے روز مستعفی ہو جانے والے وزیراعظم سعد الحریری دوبارہ اپنے ملک واپس آ جائیں گے۔ بیروت میں صدارتی دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے، ’’سعد حریری نے ملکی صدر کو ٹیلی فون کرتے ہوئے مطلع کیا ہے کہ وہ آزادی کے قومی دن کے موقع پر ہونے والی تقریبات میں شرکت کے لیے لبنان واپس آ رہے ہیں۔‘‘

Frankreich Anhunft Saad Hariri in Paris (picture alliance/AP Photo/APTN)

سعد الحریری اس وقت فرانسیسی صدر ایمانویل ماکروں کے دعوت  نامے پر فرانس میں موجود ہیں

ایران نے فرانس کی ’متوازن‘ پوزیشن کو غلط سمجھا ہے، ماکروں

سعد الحریری اس وقت فرانسیسی صدر ایمانویل ماکروں کے دعوت  نامے پر فرانس میں موجود ہیں، جہاں وہ آج ان سے ملاقات کریں گے۔ سعد الحریری نے چار نومبر کو اچانک سعودی عرب پہنچ کر مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اور اس کی اتحادی شیعہ جماعت حزب اللہ کی طرف سے انہیں قتل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔  ان کے اس بیان کے بعد ایسی افواہیں منظر عام پر آئی تھیں کہ انہیں سعودی عرب میں قید کر لیا گیا ہے۔ الحریری کا آج فرانس پہنچنے سے پہلے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہنا تھا کہ وہ سعودی عرب میں قید نہیں ہیں اور ساتھ ہی انہوں نے جرمن وزیر خارجہ کا نام بھی لکھا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ الحریری فرانس کے دورے کے بعد دوبارہ عرب ملکوں کا ایک مختصر دورہ کریں گے اور اس کے بعد اپنے ملک لبنان واپس جائیں گے۔

دوسری جانب سعودی عرب جرمنی میں تعینات اپنے سفیر کو صلاح مشورے کے لیے واپس ریاض طلب کر لیا ہے۔ سعودی عرب کی طرف سے یہ اقدام جرمن وزیر خارجہ زیگمار گابرئیل کی اپنے لبنانی ہم منصب سے ایک ملاقات کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ سعودی عرب کا کہنا ہے کہ جرمن وزیر خارجہ کے ’ناجائز اور غیرمنصفانہ‘ بیان کی وجہ سے ریاض میں تعینات جرمن سفیر کو ایک احتجاجی مراسلہ بھی دیا جائے گا۔

گزشتہ روز جرمن وزیر خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا، ’’ان کا ملک لبنان کے ساتھ کھڑا ہے اور مشرق وسطیٰ کے لوگ ایک اور مصبیت نہیں چاہتے ہیں۔‘‘ یورپی ممالک کے مطابق لبنان کی سیاسی صورتحال انتہائی پیچیدہ ہے اور وہاں توازن برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ لبنان شیعہ، سنی اور مسیحی آبادی میں تقسیم ہے۔

DW.COM

اشتہار