سستی بوجھل خوراک کھانے والے بچے: دبلے یا زائد وزن کے حامل | صحت | DW | 15.10.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

صحت

سستی بوجھل خوراک کھانے والے بچے: دبلے یا زائد وزن کے حامل

جنوب مشرقی ایشیا میں بچوں میں جَلد تیار ہو جانے والی نوڈلز کو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہے۔ ایسی خوراک بظاہر سستی ہے لیکن یہ غذائیت سے عاری ہوتی ہے۔ اس باعث بچے یا انتہائی دبلے یا پھر غیر ضروری وزن کے حامل ہو جاتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی بہبود اطفال کی تنظیم یونیسیف کی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک میں چالیس فیصد بچے کم غذائیت کا شکار ہیں۔ یہ تناسب ہر تین میں سے ایک بچے کا بنتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس خطے کے بچوں میں جلد پکنے والی نوڈلز کی مقبولیت بہت زیادہ ہے۔

غذائی ماہرین کے مطابق فوری طور پر تیار ہو جانے والی نوڈلز سے پیٹ تو یقینی طور پر بھر جاتا ہے لیکن اس میں بچوں کی نشو و نما اور جسمانی افزائش کے لیے درکار بنیادی اجزاء کی شدید کمی ہوتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایسی خوراک بچوں کے لیے مفید کم اور نقصان دہ زیادہ ہے۔

Nordrhein-Westfalen, Düsseldorf: Japan Tag - Bildergalerie (picture-alliance/dpa/D. Young)

نوڈلز سے پیٹ تو یقینی طور پر بھر جاتا ہے لیکن ایسی خوراک بچوں کے لیے مفید کم اور نقصان دہ زیادہ ہے

جنوب مشرقی ایشیائی ممالک فلپائن انڈونیشیا، ملائیشیا اور تھائی لینڈ میں اقتصادی سرگرمیوں میں خاصی تحریک پائی جاتی ہے اور اسی باعث یہ ملکی اقتصادی سرگرمیوں کے حامل تصور کیے جاتے ہیں۔ دوسری جانب ان ممالک میں زندگی بسر کرنے والے خاندانوں کے افراد چند بنیادی اصولوں سے محروم دکھائی دیتے ہیں۔ ان ممالک میں کئی والدین اتنے مصروف ہیں کہ وہ اپنے بچوں کے لیے معیاری غذا کی فراہمی میں ناکام رہ جاتے ہیں۔

یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق انڈونیشیا میں پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً ساڑھے چوبیس ملین بچے کم غذائیت والی خوراک کا شکار ہیں۔ فلپائن میں ایسے بچوں کی تعداد گیارہ ملین اور ملایشیا میں کم غذائیت سے متاثر ہونے والے بچوں کی تعداد چھبیس لاکھ کے لگ بھگ ہے۔

Chef von Indofood, Anthoni Salim, einer der reichsten Menschen in Indonesien (Getty Images/AFP/B. Ismoyo)

نوڈلز سستی خوراک ہے اور یہ پکانا آسان ہے لیکن یہ ایک متوازن خوراک کا کسی بھی طور پر متبادل نہیں

انڈونیشیا کے ایک ماہر خوراک حبیب اللہ ثابرانی کا کہنا ہے کہ والدین میں یہ احساس زیادہ اہم ہے کہ بچوں کی بھوک مٹانی ضروری ہے اور اُن کے پیٹ بھرے ہونے اہم ہیں لیکن انہیں یہ فکر لاحق نہیں کہ بچے جو خوراک لے رہے ہیں وہ کتنی صحت مندانہ ہے۔ ثابرانی کے مطابق بچوں کی دسترس میں ایسے خوراک ہے جن میں کیلشیم یا فائبر اور پروٹین کی واضح کمی پائی جاتی ہے۔

یونیسیف کی رپورٹ میں بیان کیا گیا ہے کہ یہ مشینی رویہ مستقبل میں بچوں کو خوراک کے لازمی اجزاء مثلاً خون میں ہیموگلوبن کی کمی اور آئرن وغیرہ سے محروم کر دے گا۔ رپورٹ کے مطابق ان اہم اجزا کی کمی سے بچوں کی عمر بڑھنے کے دوران صحت کی پیچیدگیاں پیدا ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے کی ماہر غذائیت مُوئنی موتونگا کا کہنا ہے کہ نوڈلز جلدی پک جاتی ہیں، نوڈلز سستی خوراک ہے اور یہ پکانا آسان ہے لیکن یہ ایک متوازن خوراک کا کسی بھی طور پر متبادل نہیں ہے۔ موتونگا کے مطابق بچوں کو متوازن خوراک نہیں ملے گی تو ان کا جسم کمزور ہونے کے ساتھ صحت مند دماغ سے بھی محروم ہو سکتا ہے۔

ع ح ⁄ ب ج (اے ایف پی)

ویڈیو دیکھیے 05:18

سمندری گھاس کے لذیذ نوڈلز

DW.COM

Audios and videos on the topic