سری لنکا میں دہشت گردانہ حملے، ذمہ داری داعش نے قبول کر لی | حالات حاضرہ | DW | 23.04.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

سری لنکا میں دہشت گردانہ حملے، ذمہ داری داعش نے قبول کر لی

جہادی تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش نے اکیس اپریل کے دہشت گردانہ حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ تجزیہ کاروں نے اس جہادی تنظیم کے اعلان پر کسی حد تک شک کا اظہار کیا ہے۔

جہادی تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش نے سری لنکا میں اکیس اپریل کو ایسٹر کے تہوار پر کیے جانے والے دہشت گردانہ حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ اس بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ خودکش حملوں میں اِس تنظیم کے جنگجو شریک تھے۔ بیان کے مطابق حملے کرنے والوں نے اتحاد اور مسیحی باشندوں کو نشانہ بنایا تھا۔

 یہ اعلان اس جہادی گروپ کی حامی نیوز ایجنسی اعماق نے جاری کیا ہے۔ اس بیان میں اتحاد سے مراد امریکی اتحاد لیا گیا ہے۔ اس بیان میں حملے کرنے کے حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ دوسری جانب نیوز ویب سائٹ اعماق کی رپورٹوں پر نگاہ رکھنے والوں نے اس بیان کی صداقت اور حملے میں داعش کے ملوث ہونے پر شبہات کا اظہار کیا ہے۔

دریں اثناء سری لنکا کے نائب وزیر دفاع رووان وجے وردھنے کا کہنا ہے کہ اُن کے ملک میں کیے گئے حملے نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ حملوں کا ردعمل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں اس کا یقین ہے کہ یہ حملے کسی انتہا پسند اسلامی گروپ نے کیے ہیں۔ نائب وزیر دفاع کے مطابق سری لنکا میں ایسے کسی انتہا پسند گروپ کو فوری طور پر کالعدم قرار دینے سے گریز نہیں کیا جائے گا۔

 دوسری جانب اقوام متحدہ کی بہبود اطفال کی ایجنسی یونیسیف نے کہا ہے کہ سری لنکا میں دہشت گردانہ حملوں میں پینتالیس بچے مارے گئے ہیں۔ ان حملوں میں ہلاکتیں تین سو اکیس اور زخمیوں کی تعداد پانچ سو کے لگ بھگ ہے۔ یونیسیف کے ترجمان کے مطابق بچوں کی ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ زخمیوں میں شامل کئی بچوں کی حالت تشویش ناک ہے۔

ع ح / ا ا ( نیوز ایجنسیاں)