سرد جنگ جیسی کشیدگی پھر لوٹ سکتی ہے، چین کی تنبیہ | حالات حاضرہ | DW | 11.11.2021
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

سرد جنگ جیسی کشیدگی پھر لوٹ سکتی ہے، چین کی تنبیہ

ایسے وقت میں جب کہ تائیوان کے معاملے پر چین اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، چینی صدر شی جن پنگ نے ایشیا بحرالکاہل کے تمام ملکوں سے مشترکہ چیلنجز کا مل کر مقابلہ کرنے کی اپیل کی ہے ۔

چینی صدر شی جن پنگ نے ایشیا بحرالکاہل خطے میں سرد جنگ دور کی کشیدگی واپس لوٹنے کے تئیں متنبہ کیا۔ انہو ں نے جمعرات کے روز ان خیالات کا اظہار تائیوان نیز بحیرہ جنوبی چین کے حوالے سے امریکا کے ساتھ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان کیا۔ انہوں نے ایشیا بحرالکاہل کے تمام ملکوں سے مشترکہ چیلنجز کا مل کر مقابلہ کرنے کی اپیل کی اور کہا کہ سرد جنگ کی ذہنیت میں مبتلا ہونے سے بچیں۔

چینی رہنما نے 'ایشیا پیسفک اکنامک کوآپریشن سمٹ' کے دوران ایک ورچوئل بزنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، "نظریاتی خطوط کھینچنے یا جیوپولیٹیکل بنیادوں پر چھوٹے دائرے بنانے کی کوششیں ناکام ثابت ہوں گی۔ ایشیا بحرالکاہل خطہ سرد جنگ دور کے تصادم اور تقسیم میں نہ تو پھنس سکتا ہے اور نہ ہی اسے اس میں پھنسنا چاہئے۔"

شی جن پنگ نے اس کے علاوہ اور کیا کہا؟

شی پنگ نے کہا، "چین ایشیا بحرالکاہل خطے میں ایسی اقتصادی ترقی جس سے ہر ایک کو فائدہ ہو، کے لیے تعاون اور مدد کرنے کے اپنے وعدے پر قائم رہے گا۔"

چینی رہنما نے "ٹیکہ کاری میں خلیج" کو کم کرنے کے لیے مشترکہ اقدامات اور کووڈ انیس ویکسین کو ترقی پذیر ملکوں تک زیادہ قابل رسائی بنانے کی بھی اپیل کی۔

شی پنگ نے پائیدار ترقی کا بھی ذکر کیا۔ خیال رہے کہ چین اور امریکا اسکاٹ لینڈ کے گلاسگو میں جاری سی او پی چھبیس ماحولیاتی سمٹ میں ایک "پرعزم" ماحولیاتی ایکشن پلان پر متفق ہوگئے ہیں۔

بحیرہ جنوبی چین میں ایک امریکی جوہری آبدوز کے حادثے کی وجہ سے بھی چین کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہوا

بحیرہ جنوبی چین میں ایک امریکی جوہری آبدوز کے حادثے کی وجہ سے بھی چین کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہوا

ایشیا بحرالکاہل میں کشیدگی

تائیوان کے معاملے پر امریکا اور چین کے درمیان خطے میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ چین تائیوان کو اپنے ملک کا ہی ایک حصہ قرار دیتا ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے اکتوبر میں کہا تھا کہ امریکا تائیوان کا دفاع کرنے کے "عہد پر قائم" ہے کیونکہ اس جزیرے کو بیجنگ کی جانب سے بڑھتے ہوئے فوجی اور سیاسی دباو کا سامنا ہے۔

بائیڈن نے ان خیالات کا اظہار امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی طرف سے منعقدہ ایک ٹاون ہال پروگرام کے دوران کیا تھا۔ انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا تھا،" میں چین کے ساتھ سرد جنگ نہیں چاہتا۔"

امریکا نے ستمبر میں "کواڈ" گروپ کی میٹنگ میں بھی اس مسئلے کو اٹھایا تھا۔ اس گروپ میں امریکا کے علاوہ بھارت، جاپان اور آسٹریلیا شامل ہیں۔ حالانکہ چین میٹنگ کے ایجنڈے میں باضابط شامل نہیں تھا لیکن کواڈ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا تھا، "ہم قانون کی حکمرانی، سمندروں میں آمد و رفت اور خلا میں پروازکی آزادی، تنازعات کے پرامن حل، جمہوری اقدار اور ریاستوں کی علاقائی سالمیت کے حق میں متحد طور پر کھڑے ہیں۔"

بحیرہ جنوبی چین میں ایک امریکی جوہری آبدوز کے حادثے کی وجہ سے بھی چین کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا۔

دریں اثنا خبر رساں ایجنسی روئٹرز نے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ چین اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود شی جن پنگ اور جو بائیڈن اگلے ہفتے ایک ورچوئل میٹنگ کرنے والے ہیں۔

ج ا/ ص ز (اے ایف پی، روئٹرز)

 

DW.COM