سرجن مریض کے بازو پر ہی کان اُگانے میں کامیاب | صحت | DW | 05.12.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

سرجن مریض کے بازو پر ہی کان اُگانے میں کامیاب

کاسمیٹک طب میں اسے ایک انقلابی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ ایک چینی سرجن متاثرہ مریض کے بازو پر ہی انسانی کان اُگانے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ مریض کا کان گزشتہ برس ایک حادثے میں ضائع ہو گیا تھا۔

نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق مریض کا نام مسٹر چی ہے اور وہ گزشتہ برس ایک حادثے کے دوران شدید زخمی ہو گیا تھا۔ اس حادثے کے دوران اس کا دائیاں کان اس کے چہرے سے الگ ہو گیا تھا۔ اس شخص کے چہرے کو دوبارہ درست حالت میں لانے کے لیے متعدد آپریشن کیے جا چکے ہیں لیکن ڈاکٹر مریض کے کان کو دوبارہ درست حالت میں لانے میں ناکام رہے ہیں۔

ڈاکٹر گو شو ژونگ چین کے معروف پلاسٹک سرجن ہیں۔ جب مسٹر چی نے ان کے بارے میں سنا تو ان سے رابطہ کیا۔ ڈاکٹر گو نے چہرے کا ٹرانسپلانٹ آپریشن پہلی مرتبہ سن دو ہزار چھ میں کیا تھا اور انہوں نے تین مرحلوں میں مسٹر چی کا علاج کرنے کی حامی بھری تھی۔

شیان جیاؤٹونگ یونیورسٹی کے اس ڈاکٹر نے سب سے پہلے مرحلے میں مریض کے بازو پر جلد کو پھیلایا۔ دوسرے مرحلے میں پسلی کی نرم ہڈیوں کے مخصوص حصوں کو اتارے ہوئے انہیں بازو کی جلد میں داخل کیا گیا۔ کان کی شکل میں کاٹی ہوئی ان ہڈیوں کو جلد کے اندر اس وجہ سے ڈالا گیا تاکہ ان پر جلد آ سکے اور یہ آہستہ آہستہ کان کی شکل میں تبدیل ہو جائیں۔

ابھی اگایا جانے والا کان مکمل طور پر اس حالت میں نہیں آیا ہے کہ اسے دائیں کان کی جگہ ٹرانسپلانٹ کیا جا سکے۔ سرجن نے امید ظاہر کی ہے کہ ایک ماہ کے اندر اندر اس سرجری کو مکمل کر لیا جائے گا۔

مریض کا چائنا نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’میرا ایک کان نہیں ہے اور مجھے محسوس ہوتا ہے میں جسمانی طور پر مکمل نہیں ہوں۔‘‘

سرجن کے مطابق سب سے مشکل مرحلہ کان کو مریض کے بازو سے جوڑنا تھا تاکہ اس کی افزائش ہو سکے، جو بخوبی طے پا گیا ہے۔

مسٹر چی نے امید ظاہر کی ہے کہ وہ دوبارہ اپنی زندگی کو ویسے ہی گزار سکیں گے، جیسے حادثے سے پہلے گزار رہے تھے۔

اشتہار