سخاروف پرائز دو ایزدی خواتین کے نام | حالات حاضرہ | DW | 27.10.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

سخاروف پرائز دو ایزدی خواتین کے نام

یورپی پارلیمنٹ نے اس سال انسانی حقوق کا سخاروف انعام دو ایزدی خواتین کو دینے کا اعلان کیا ہے۔ عراق میں داعش کے جنگجوؤں کی قید سے آزادی کے بعد نادیہ مراد اور لامیہ آجی بشار خواتین کے حقوق کے تحفظ کی خاطر سرگرم ہیں۔

Nadia Murad Sacharow-Preis des Europaparlaments (picture alliance/dpa/V. Simanek)

نادیہ مراد کو سن دو ہزار چودہ میں اگست کے مہینے میں داعش کے جنگجوؤں نے شمالی عراقی شہر سنجار سے اغوا کر لیا تھا

یورپی پارلیمان کے اسپیکر مارٹن شُلس نے ستائیس اکتوبر بروز جمعرات اعلان کیا کہ اس سال یورپ کا یہ معتبر انعام  نادیہ مراد اور لامیہ آجی بشار  کو دیا جائے گا۔ چودہ دسمبر کو منعقد کی جانے والی ایک تقریب میں یہ انعام ان دونوں خواتین کے حوالے کیا جائے گا۔ اس انعام کے ساتھ عراق کی ایزدی آبادی سے تعلق رکھنے والی ان خواتین میں پچاس ہزار یورو کی نقد رقم بھی تقسیم کی جائے گی۔

آئی ایس کے قبضے سے خیر سگالی کی سفیر تک

عراقی ایزدی آبادی کی نسل کشی کی کوشش کی گئی، اقوام متحدہ

عراق: نرغے میں آئے ایزدی ہیں کون؟

نادیہ مراد کو سن دو ہزار چودہ میں اگست کے مہینے میں داعش کے جنگجوؤں نے شمالی عراقی شہر سنجار سے اغوا کر لیا تھا۔ یہ جنگجو بعد ازاں اسے موصل لے گئے تھے، جہاں نادیہ کے بقول اسے جنسی غلامی پر مجبور کر دیا گیا تھا۔ اس وقت نادیہ کی عمر تئیس سال ہے۔ اس کے بقول جہادیوں نے اسے مذہب اسلام قبول کرنے پر مجبور بھی کیا تھا۔ ایک انٹرویو میں نادیہ نے کہا تھا، ’’میں مزید تشدد اور جنسی زیادتی برداشت کرنے کے قابل نہیں تھی، اس لیے میں فرار ہو گئی۔‘‘

لامیہ آجی بشار صرف سولہ برس کی تھی، جب داعش کے شدت پسندوں نے اسے جنسی غلام بنایا تھا۔ جرمنی میں آنے کے بعد اسے نفسیاتی مدد بھی فراہم کی گئی۔ بشار کے سائیکالوجسٹ جان کازلہان نے اے ایف پی کو بتایا، ’’اس (بشار) نے انتہائی حوصلہ مندی کا مظاہرہ کیا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’اس کے بہت سے عزیز اور رشتہ دار اس کی آنکھوں کے سامنے ہلاک کر دیے گئے تھے۔ داعش کے جنگجوؤں نے بشار اور اس کی برداری کی دیگر لڑکیوں کو بار بار جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔‘‘

بیس ماہ تک جنگجوؤں کی قید میں رہنے والی بشار نے قید سے فرار ہونے کی متعدد کوششیں کیں اور آخر کار کامیاب ہو ہی گئی۔ اس کے بعد عراقی شہر الحويجہ کے ہسپتال کے ڈائریکٹر نے بھی اسے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ پھر وہ کرکوک پہنچی اور وہاں سے وہ بالآخر جرمنی۔

Irak Lamia Hadschi Baschar Jesiden IS-Verfolgte (picture-alliance/AP/B. Szlanko)

لامیہ آجی بشار صرف سولہ برس کی تھی، جب داعش کے شدت پسندوں نے اسے جنسی غلام بنایا تھا

ویڈیو دیکھیے 02:08
Now live
02:08 منٹ

لوٹ کے مقتل دیکھوں!

ان دونوں خواتین نے شدت پسندوں کے چنگل سے آزاد ہونے کے بعد نہ صرف اپنی دردناک یادوں کو بھلایا بلکہ ایزدی اور دیگر خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنا شروع کر دیا۔ ان دونوں خواتین کی کوشش سے بھی ایزدی آبادی پر داعش کے جہادیوں کے ظلم و ستم کو میڈیا میں زیادہ توجہ حاصل ہو سکی۔ سخاروف پرائز سن 1988 میں قائم کیا گیا تھا۔ یہ انعام سابقہ سوویت یونین کے منحرف اندری سخاروف کے نام پر ہے اور اِس کے حقدار کا فیصلہ یورپی پارلیمنٹ کرتی ہے۔

DW.COM

Audios and videos on the topic

اشتہار