سانحہ مری: کیا پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے تیار ہے؟ | معاشرہ | DW | 10.01.2022

ڈی ڈبلیو کی نئی ویب سائٹ وزٹ کیجیے

dw.com کے بِیٹا ورژن پر ایک نظر ڈالیے۔ ابھی یہ ویب سائٹ مکمل نہیں ہوئی۔ آپ کی رائے اسے مزید بہتر بنانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

سانحہ مری: کیا پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے تیار ہے؟

مدثر کئی گھنٹوں سے مسافروں کے ساتھ مل کر اپنی مدد آپ کے تحت مری کی اس درمیانی شاہراہ سے برف ہٹانے میں مصروف تھے۔ ایک بوڑھی خاتون نے آکر ان سے گزارش کی کہ ان کی گاڑی میں موجود تین لاشوں کو نکالیں۔

سرکاری ذرائع کے مطابق ابھی تک مری میں ہونے والی اموات کی تعداد 22 ہو چکی ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق ابھی تک مری میں ہونے والی اموات کی تعداد 22 ہو چکی ہے۔

کوہسارِ مری میں جمعہ سات جنوری کو فجر کی ازان کا وقت ہو گیا تھا۔ کلڈنہ چوک سے تھوڑے فاصلے پر واقع جامع عثمانیہ مسجد تھی، جس کے دروازے مقفل تھے۔ باہر سینکڑوں گاڑیاں کئی فٹ برف سے ڈھکی ہوئی  قطار در قطار کھڑی تھیں۔

مدثر شاہ بھی انہیں گاڑیوں میں سے ایک کے باہر بیٹھے راستہ کلیئر ہو جانے کا انتظار کر رہے تھے۔ سامنے خار دار تاریں تھیں جو سڑک کے کنارے تا حدِ نگاہ لگی ہوئی تھیں، جن پر جلی حروف میں لکھا تھا کہ بغیر اجازت داخل ہونے والوں کو گولی مار دی جائے گی۔

مدثر کے ہاتھ ٹھنڈ سے نیلے پڑنے لگے تھے۔ وہ کئی گھنٹوں سے مسافروں کے ساتھ مل کر اپنی مدد آپ کے تحت مری کی اس درمیانی شاہراہ سے برف ہٹانے میں مصروف تھے۔ مدثر ابھی سڑک کنارے بیٹھے ہی تھے، جب ایک بوڑھی خاتون نے آکر ان سے گزارش کی کہ ان کی گاڑی میں موجود تین لاشوں کو کندھا دےکر نکالیں۔ بدلے میں وہ مدثر کو منہ مانگا معاوضہ دینے کو تیار تھیں۔

 یہ تھی وہ پہلی موت جو مدثر نے اپنی آنکھوں سے دیکھی اور ان کے مطابق اس کے بعد اموات کی یہ تعداد بڑھتی ہی چلی گئی۔ مدثر نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ لوگوں نے مسجد میں پناہ لینے کی کوشش کی لیکن داخلی دروازہ بند ہونے کی وجہ سے وہ ایسا نہ کر سکے۔ البتہ کچھ فاصلے پر موجود کرسچن برادری کے لوگوں کی جانب سے انہیں سردی سے بچنے کے لیے کمبل مہیا کیے گئے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق ابھی تک مری میں ہونے والی اموات کی تعداد 22 ہو چکی ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق ابھی تک مری میں ہونے والی اموات کی تعداد 22 ہو چکی ہے۔

تقریباﹰچالیس گھنٹے برف باری میں پھنسے رہنے کے بعد مدثر وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے اور ان کے مطابق مقامی انتظامیہ کو جائے حادثہ تک پہنچنے میں 36 گھنٹے کا وقت لگا۔ اس دوران کئی اموات ہو چکی تھیں۔ مدثر کہتے ہیں کہ مری میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے، جو میڈیا میں بتائی جا رہی ہیں۔

بہر حال سرکاری ذرائع کے مطابق ابھی تک مری میں ہونے والی اموات کی تعداد 22 ہو چکی ہے اور ہفتہ آٹھ جنوری کو وزیر اعظم عمران خان نے ٹوئٹر پر اس سانحے پر اپنا بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس واقعے پر شدید افسوس ہے۔ مری اس شدید برفباری کے لیے تیار نہیں تھا اور عوام کو علم تھا کہ موسم شدت اختیار کر سکتا ہے لیکن سیاح پھر بھی مری کا رخ کرتے رہے۔ انہوں نے ایک اور ٹویٹ میں اس واقعے کے حقاق جاننے کے لیے ایک انکوئری کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان بھی کیا۔

مری کی شاہراہ (ایکسپریس وے) کے انتظام و انصرام کی ذمہ داری نیشنل ہائی ویز اتھارٹی (این ایچ اے) کے سپرد ہے اور شاہراہ کو صاف و محفوظ رکھنا این ایچ اے کا ہی کام ہے۔ وزیر مواصلات مراد سعید کے ماتحت کام کرنے والے اس ادارے کی جانب سے اب تک کوئی وضاحتی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

مری میں برفانی طوفان کی پیشن گوئی تھی

محکمہ موسمیات کی جانب سے مری میں برفباری کی پیشن گوئی پانچ جنوری کو ہی کر دی گئی تھی اور حکومتی اداروں کو اس بات کا مکمل ادراک تھا کہ مری کا موسم شدت اختیار  کر سکتا ہے۔

پھر مری کے داخلی راستوں پر عوام کو روکا کیوں نہیں گیا؟ اس سوال کے جواب میں وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کے اسپیشل اسسٹنٹ حسان خاور نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے پر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی جا رہی ہے۔

حسان نے مزید کہا کہ مری میں زیادہ گاڑیاں داخل ہونے کی خبر بے بنیاد ہے کیونکہ مری سے نکلنے والی گاڑیوں کے اعداد و شمار کہیں موجود نہیں صرف داخل ہونے والی گاڑیوں کا ذکر کیا جا رہا ہے۔تاہم اس حوالے سے پنجاب حکومت نے انکوئری کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جو ہر پہلو سے اس واقعے کا جائزہ لے گی اور  ایسی کوئی بھی بات سامنے آنے پر ذمہ داران کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔

کیا پاکستان ان موسمیاتی تبدیلیوں کے لیے تیار ہے؟

اس وقت پاکستان کے مختلف علاقوں میں برفباری کا سلسلہ جاری ہے۔ موسمیاتی تبدیلیاں اس وقت ملک کا بیشتر حصہ اپنی لپیٹ میں لے چکی ہیں۔گزشتہ سال کے آخر میں گلگت بلتستان میں زلزلہ اس سال کے اوائل میں کراچی میں شدید بارشیں، اور بلوچستان میں ہونے والی برف باری سے تباہ کاریاں انہیں موسمیاتی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ہیں۔

اس تمام تر صورتحال میں سوال یہ ہے کہ ملکی حکومت کس حد تک ان قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔مری کے معاملے میں ریلیف اور ریسکیو کی ذمہ داری پنجاب ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کی ہیں اور  شاید ریسکیو کام وقت پر شروع نہ ہونے کی وجہ سے ہی کئی قیمتی انسانی جانوں کا زیاں ہوا اس بات کا جواب جاننے کے لیے ڈی ڈبلیو نے نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ کے حکام سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی جواب موصول نہ ہوسکا۔

ماحولیاتی تحفظ کے کارکن اور وکیل رافع عالم نے ڈی ڈبلیو کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں بتایا کہ موسمیاتی تبدیلیاں ملک کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہیں اور مری میں ہونے والا جانی نقصان اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ پاکستان ان شدید تبدیلیوں کے لیے بالکل بھی تیار نہیں ہے۔

Pakistan I Murree wird zum Katastrophengebiet erklärt

مری کی شاہراہ کے انتظام و انصرام کی ذمہ داری نیشنل ہائی ویز اتھارٹی (این ایچ اے) کے سپرد ہے اور شاہراہ کو صاف و محفوظ رکھنا این ایچ اے کا ہی کام ہے۔

رافع عالم نے مزید کہا کہ مری کوئی گاؤں نہیں ہے بلکہ ملکی دارالحکومت سے صرف دو گھنٹے کے فاصلے پر ہے، اگر وہاں یہ حال ہے تو باقی ملک کا کیا ہو گا۔ رافع نے مزید کہا کہ ملکی تاریخ موسمیاتی تبدیلیوں سے ہونے والے ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے۔

وزیرِ اعلی پنجاب کی جانب سے مری کا دورہ

سانحہ مری کے گھںٹوں بعد حکومتی عہدے داران نے مری پہنچنا شروع کیا۔ پنجاب حکومت کے سربراہ عثمان بزدار کو البتہ اس واقعے کے تقریباﹰ 30گھنٹے بعد دورہ  کرنے کا وقت ملا مگر وہ بھی فضائی دورہ، جس میں انہوں فضا سے ہی امدادی کام کا جائزہ لیا۔

جب ڈی ڈبلیو نے یہ سوال وزیر اعلٰی پنجاب کے اسپیشل اسسٹنٹ سے  کیا تو ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعلی پنجاب کو مری پہنچنے میں تاخیر موسم کی وجہ سے ہوئی کیونکہ سڑکیں مکمل بند ہونے کی وجہ سے وہ فوری طور پر صرف فضائی دورہ ہی کر سکتے تھے۔ تاہم بعد میں مطلع صاف ہونے پر انہوں نے مری میں حکام سے ملاقاتیں بھی کیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا، ''ریسکیو کام تو وقت پر شروع ہو گیا تھا، جس میں کئی ملکی اداروں نے حصہ لیا ہے۔‘‘

اس سوال کے جواب میں کہ مری میں شدید خراب موسم کے پیشِ نظر آئندہ کی حکمتِ عملی کیا ہو گی تو انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی پہلی حکومت ہے جس نے مری کے علاوہ باقی سیاحتی مقامات پر ترقیاتی کام شروع کیے ہیں تاکہ مری پر سیاحتی بوجھ کم ہو سکے۔ لیکن اس طرح کے معاملات سے نمٹنے کے لیے ملک میں ادارہ سازی اور ریفارمز کی اشد ضرورت ہے۔تاہم بعد میں موسم مطلع صاف ہونے پر انہوں نے مری میں حکام سے ملاقاتیں بھی کیں۔

دوسری جانب اپوزیشن حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے اور امدادی کارروائیوں میں تاخیر کو مری سانحے کی بڑی وجہ قرار دے رہی ہے۔

ونٹر ٹورازم اور حکومتی تیاری

وزیرِ اعظم عمران خان نے گزشتہ برس ہی اپنی ایک ٹویٹ کے ذریعے عوام کو ونٹر ٹورازم کی خوشخبری سنائی تھی اور سانحہ مری سے چند دن پہلے ہی فاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بھی ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ مری میں ایک لاکھ گاڑیوں کا داخلہ خوش آئند بات ہے اور ملک میں سیاحت کو فروغ مل رہا ہے جو کہ ملکی معیشت کے لیے اہم ہے۔ لیکن لوکل انتطامیہ کے مطابق مری میں 30 ہزار گاڑیوں سے زیادہ کی پارکنگ کی گنجائش موجود ہی نہیں تو اس صورت میں مری میں برفباری کے موسم میں ٹریفک جام اچھنبے کی بات ہرگز نہیں۔

ویڈیو دیکھیے 04:15

منچھر جھیل کا پانی ختم ہوتا ہوا یا زندگی ختم ہوتی ہوئی

مری کے مقامی رہائشی عمیر عباسی اور ان کے خاندان کے  اس سیاحتی مقام پر دو بڑے ہوٹلز ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مری میں پیک سیزن میں ٹریفک جام عام سی بات ہے لیکن جمعے کے روز صورتحال زیادہ خراب ہو گئی۔

ڈی ڈبلیو سے خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ہوٹل انتظامیہ کی طرف سے کمروں اور اشیائے خوردنوش کی قیمتیں بڑھانے کی خبر میں صداقت نہیں اور اگر ایسا ہے بھی تو مری کا سب سے بڑا ہوٹل شہر کے ایم این اے صداقت علی عباسی کا ہے، جن کا تعلق پی ٹی آئی سے ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ حکومتِ وقت مری میں بے جا مہنگائی کے مسئلے سے مکمل طور پر آگاہ ہے۔

عمیر کا مزید کہنا تھا کہ مری میں ہر سال ہی ایسا کوئی واقع پیش ضرور آتا ہے لیکن انتظامیہ کی نااہلی کی وجہ سے اس پر کبھی کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو سکی۔ 

ماحولیاتی پالیسی کے ایکسپرٹ داور بٹ نے ڈی ڈبلیو  سے بات چیت میں کہا کہ مری ساںحے سے بچا جاسکتا تھا اگر حکومت بر وقت اقدامات کرتی اور ملک میں ماحولیاتی تبدیلیوں کو سنجیدگی سے لیا جاتا۔لیکن یہاں ہر ادارہ دوسرے ادارے پر الزام ڈالنے میں مصروف ہے۔

داور بٹ نے مزید کہا کہ پاکستان میں موسمیاتی پیشن گوئی کا کوئی مناسب طریقہ کار موجود ہی نہیں ہے اور ہم اب تک بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس پر اکتفا کرتے ہیں اور ایک صوبے کی سیاحتی پولیس کو دوسرے صوبے کی حدود میں کام کرنے کی اجازت نہیں ہے اور یہی مری سانحے کی بنیادی وجہ بنا۔ جہاں اب فوج کام کر رہی ہے وہاں بروقت کارروائی کرتے ہوئے یہ فوج پہلے بھی مدد کے لیے بلائی جاسکتی تھی لیکن بد قسمتی سے ایسا نہیں ہوا۔