’سابق اسرائیلی وزیر نے ایران کے لیے جاسوسی کی‘: مقدمہ شروع | حالات حاضرہ | DW | 05.07.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

حالات حاضرہ

’سابق اسرائیلی وزیر نے ایران کے لیے جاسوسی کی‘: مقدمہ شروع

اسرائیل کے توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے ایک سابق وزیر کے خلاف ایران کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں مقدمے کی سماعت شروع ہو گئی ہے۔ اس واقعے کو اب تک ’ملکی سلامتی کی وجوہات‘ کے نام پر انتہائی خفیہ رکھا گیا تھا۔

گونین سیگیو اسرائیلی پارلیمان کے رکن اور سابق وزیر توانائی رہ چکے ہیں

گونین سیگیو اسرائیلی پارلیمان کے رکن اور سابق وزیر توانائی رہ چکے ہیں

یروشلم سے جمعرات پانچ جولائی کو ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق اسرائیل کے سب سے بڑے حریف اور ناقد ملک کے لیے جاسوسی کے اس الزام کا سامنا گونَین سیگیو (Gonen Segev) کو ہے، جو 1995ء سے لے کر 1996ء تک توانائی اور انفراسٹرکچر کے اسرائیلی وزیر رہے تھے۔

گونَین سیگیو پر عائد کردہ الزامات کے مطابق وہ ’اسرائیلی ریاست کے خلاف جاسوسی، جنگ کے دور میں دشمن کی مدد کرنے اور ریاستی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی نیت سے معلومات آگے پہنچانے‘ کے مرتکب ہوئے تھے۔ آج جمعرات کے روز ان کے خلاف مقدمے کی عدالتی سماعت کے آغاز پر صحافیوں کو اس کارروائی سے دور ہی رکھا گیا کیونکہ یہ سماعت بند کمرے میں ہو رہی ہے۔

اے ایف پی کے مطابق سیگیو کے خلاف زیادہ تر ’معلوم‘ الزامات وہ ہیں، جو ان کے خلاف جاری کردہ فرد جرم کا حصہ ہیں، لیکن سیگیو کے وکلاء دفاع کے مطابق یہ بات اس لیے غلط اور غیر واضح ہے کہ ان کے مؤکل کے خلاف الزامات میں بہت سے حقائق کو ریاست کی طرف سے لگائے گئے ’انفارمیشن بلیک آؤٹ‘ کے تحت چھپا دیا گیا ہے اور جو معلومات جاری کی گئی ہیں، وہ بہت عمومی اور مجموعی طور پر دانستہ ’غلط تاثر‘ دینے والی ہیں۔

مختلف قانونی دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے اے ایف پی نے مزید لکھا ہے کہ گونَین سیگیو پر الزام ہے کہ وہ ’توانائی کی منڈی سے متعلق معلومات، اسرائیل کے حساس سکیورٹی مقامات، عمارات، دفاتر اور سیاسی اور سکیورٹی اداروں سے متعلق معلومات‘ ایران کو مہیا کرنے کے مرتکب ہوئے تھے۔

Symbolbild Iran Israel Nukleargespräche Atomwaffe Test

اس سابق اسرائیلی وزیر نے یہ مبینہ معلومات ایران کو اس وقت مہیا کی تھیں، جب وہ 2012ء اور سال رواں کے درمیانی عرصے میں نائیجیریا میں رہائش پذیر تھے۔ انہیں اسی سال مئی میں اسرائیل کے بین گوریان ایئر پورٹ سے حراست میں لیا گیا تھا۔ سیگیو پر یہ الزام بھی ہے کہ وہ اپنے ’رابطہ کاروں‘ سے ملنے کے لیے ایران بھی گئے تھے۔

سیگیو اسرائیل کے مقتول وزیر اعظم رابین کی لیبر پارٹی کی حکومت میں ملکی وزیر رہے تھے۔ اس سے قبل ان کا تعلق اسرائیل میں انتہائی دائیں بازو کے سیاسی دھڑے سے تھا مگر وہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین ناروے میں طے پانے والے دوسرے معاہدے ’اوسلو ٹو‘ کی حمایت میں اپنا فیصلہ کن ثابت ہونے والا ووٹ ڈالنے کے لیے سیاسی ہمدردیاں بدل کر انتہائی دائیں بازو کی سیاست چھوڑ کر لیبر پارٹی میں شامل ہو گئے تھے۔ سیگیو ماضی میں مختلف نوعیت کے مجرمانہ الزامات میں قصور وار ثابت ہونے پر جیل میں قید بھی کاٹ چکے ہیں۔

ان الزامات میں سے ایک یہ بھی تھا کہ 2004ء میں انہوں نے ایک سفارتی پاسپورٹ استعمال کرتے ہوئے ہالینڈ سے نشے کے لیے استعمال ہونے والی 30 ہزار ’ایکسٹیسی‘ گولیاں اسرائیل اسمگل کرنے کی کوشش کی تھی۔ تب انہوں نے جو پاسپورٹ استعمال کیا تھا، اس کے قابل استعمال ہونے کی تاریخ اختتام میں غیر قانونی طور پر تبدیلی بھی کی گئی تھی۔

اس مقدمے میں انہوں نے استغاثہ کے ساتھ ایک ڈیل کے بعد 2005ء میں اپنا جرم تسلیم بھی کر لیا تھا اور اسی وجہ سے عدالت نے انہیں سنائی گئی سزائے قید کچھ کم رکھی تھی۔ گونَین سیگیو کو ماضی میں کریڈٹ کارڈز کے ذریعے فراڈ کی کوششوں کے جرم میں بھی کئی بار سزا سنائی جا چکی ہے۔

م م / ع ا / اے ایف پی

DW.COM