سابق اسرائیلی وزیر جاسوس نکلے | معاشرہ | DW | 09.01.2019
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages
اشتہار

معاشرہ

سابق اسرائیلی وزیر جاسوس نکلے

اسرائیلی کابینہ کے اس سابق وزیر نے قبول کیا ہے کہ وہ ایران کے لیے جاسوسی کرتے رہے ہیں۔ سزا میں کمی کے ایک معاہدے کے تحت انہیں گیارہ سال قید سنائی گئی ہے۔

اسرائیلی وزارت انصاف نے سابق وزیر گونین سیگیف کو دشمن ملک کے لیے جاسوسی کے الزام کے تحت دی جانے والی سزا کی تصدیق کر دی ہے۔ 1995ء سے 1996ء تک وزیر توانائی رہنے والے سیگیف کو جاسوسی کے شبے میں گزشتہ برس جون میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اسرائیلی داخلی سکیورٹی ایجنسی شین بیت کے مطابق نائجیریا میں قیام کے دوران سابق وزیر کے رابطے ایرانی خفیہ ایجنٹوں سے استوار ہوئے تھے اور پھر انہوں نے ایک جاسوس کے طور پر کام کیا۔ 
شین بیت نے مزید بتایا کہ اس عرصے میں ایران کو توانائی کے بعض منصوبوں کی تفصیلات فراہم کی گئی تھیں۔


 تفتیش کاروں نے بتایا کہ سیگیف نے 2012ء میں نائجیریا میں واقع ایرانی سفارت خانے کے اہلکاروں سے رابطہ کیا تھا اور وہ اپنے رابطہ کاروں سے ملاقاتیں کرنے دو مرتبہ ایران بھی گئے تھے۔ سیگیف کو گزشتہ برس جون میں جاسوسی کے شبے کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ 


اسرائیل اور ایران کے تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں۔ اسرائیل کے مطابق تہران حکومت غزہ پٹی میں حماس اور لبنان میں حزب اللہ کے شدت پسندوں کی پشت پناہی کرتی ہے۔ ایران نے شام میں بھی کئی ٹھکانے قائم کر رکھے ہیں اور ان پر بھی اسرائیل مبینہ طور پر حملے کر چکا ہے۔


دوسری جانب ایران اپنے جوہری منصوبے سے منسلک سائنسدانوں کو قتل کرنے اور اس پروگرام کو تباہ کرنے کی کوششوں کی ذمہ داری اسرائیل پر عائد کرتا ہے۔ اسرائیل میں سابق وزیر گونین سیگیف کی جانب سے ایران کے لیے جاسوسی کرنے کو تسلیم کرنے کے بیان پر تہران حکومت کا فوری طور پر کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔

DW.COM